ملفوظات (جلد 9) — Page 139
کرنے کے واسطے دعا اور کوشش میں مصروف تھا۔پس اس کی ہلاکت سے اسلام اور عیسائیت کے مابین فیصلہ ہو گیا ہے وہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود خنزیز کو قتل کرے گا وہ خنزیز یہی ڈوئی تھا اور اتنا بڑا آدمی تھا کہ اس کے مَرنے کی تاریں فوراً تمام دنیا میں دی گئی تھیں اور صدہا اخباروںمیں اس کا ذکر چھپا کرتا تھا اور سب لوگ اسے بخوبی جانتے ہیں۔لیکھرام وغیرہ کے حالات تو اسی ملک میں محدود تھے اور ممکن ہے کہ ان کے متعلق پیشگوئی اور پھر ان کی موت کی خبر ان ممالک میں نہ پہنچی ہو۔مگر اس کے متعلق کوئی ایسا نہیں کہہ سکتا۔لیکھرام تو صرف پنجاب اور بعض علاقہ جات ہند میں مشہور تھا ورنہ ایک گمنام اور بے نشان آدمی تھا لیکن ڈوئی کے نام اور حالات سے یورپ اور امریکہ کے بادشاہ بھی واقف تھے۔اس نے ایک دفعہ دنیا کے گرد دورہ کیا تھا اور ہند کے جزیرہ سیلون میں بھی آیا تھا۔جو شخص ایسے عظیم الشان نشان کا بھی انکار کرے وہ بہت ہی بے حیا ہوگا اور اس کا جرم قابل عفو نہ ہوگا۔قدرتِ خدا! ادھر ڈوئی مَرا ادھر بذریعہ الہام ہم کو اس کی موت کی خبر دی گئی اور ساتھ ہی الہام ہوا۔اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰدِقِيْنَ یہ اس مباہلہ کی طرف اشارہ تھا جو اس کے اور میرے درمیان ہو چکا تھا کہ خدا نے صادق کو فتح دی۔لیکھرام کی موت ذکر تھا کہ ایک آریہ کہتا تھا کہ ہم لوگ تناسخ کے قائل ہیں۔ہم میں کوئی مَرتا نہیں اور لیکھرام مَرا نہیں بلکہ زندہ ہے۔حضرت نے فرمایا۔لیکھرام نے جب خود مباہلہ کیا تھا۔اپنے پرمیشر کے آگے وید پیش کر کے فیصلہ چاہا تھا کہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ ہوجائے اور میرے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ مرزا صاحب تین سال میں مَر جائیں گے اور میں نے خدا سے الہام پاکر پیشگوئی کی تھی کہ وہ چھ سال میں مَر جائے گا۔تو پھر جب وہ اس مباہلہ کے نتیجہ میں مَر گیا اور اپنی موت سے خود شہادت دے گیا کہ اسلام سچا ہے اور وید جھوٹے ہیں تو اب اس کو زندہ کہنا کیا معنے رکھتا ہے؟ اور اگر بہرحال تناسخ ہی درست ہوتا تو پھر بھی کسی کو کیا معلوم ہے کہ وہ کس کیڑے یا چرندے یا چار پائے کی جون میں ہے اور کس عذاب اور دکھ میں گرفتار ہے۔