ملفوظات (جلد 9) — Page 136
آفات سے بچنے کا طریق اور میں نے کسی کو نہیں کہا کہ زلزلہ یا طاعون سے ڈر کر قادیان میں آجائیں۔اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور زلزلہ کے دن قریب آتے جاتے ہیں جس سے جانوں کا بہت نقصان ہوگا مگر نہیں معلوم کہ وہ نہایت سخت زلزلہ کب آئے گا۔ڈوئی کا مَرنا حقیقت میں بڑی فتح ہے۔تمام اخباروں میں اس کا ذکر ہے۔ایک تازہ نشان ذکر تھا کہ آجکل بہت سے شہروں میں سخت طاعون ہے اور قادیان کے ارد گرد بھی بہت طاعون ہے۔صرف گاؤں میں نسبتاً آرام ہے۔فرمایا۔ہر ایک خبر کا حال نسبتاً ہی معلوم ہوتا ہے دوسری جگہوں میں قہر الٰہی کی آگ برس رہی ہے مگر جب سے کہ یہ الہام ہوا ہے کہ ’’یا اللہ! اب شہر کی بَلائیں بھی ٹال دے‘‘ تب سے قادیان میں گویا امن ہے۔یہ بھی ایک تازہ نشان ہے اور سوچنے والوں کے واسطے ازدیادِ ایمان کا موجب ہے۔خواص کی موت کا نشان ذکر آیا کہ اب تو اخباروں میں بڑے بڑے آدمیوں کے مَرنے کی خبریں آرہی ہیں۔فرمایا۔یہ اس الہامِ الٰہی کے منشا کے مطابق میں ہے جس میں خبر دی گئی ہے کہ مِنَ النَّاسِ وَالْعَامَّۃِ یعنی طاعون میں اس حصہ خاص کے لوگ بھی ہلاک ہوں گے اور عام بھی۔جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہوگا ایک دوست کا خط پیش ہوا کہ چکڑالوی ملّاں نے اپنا مذہب یہ شائع کیا ہے کہ جب انسان مَر جاتا ہے تو ساتھ ہی روح بھی مَر جاتی ہے اور قیامت کے دن پھر ہر دو زندہ کئے جاویں گے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی کو جو پہلے مَرا ہے زیادہ مدت تک عذاب ہو اور جو قیامت کے قریب مَرے گا اس کو عذاب تھوڑی مدت ہو۔حضرت نے فرمایا۔یہ چکڑالوی کی جہالت کا خیال ہے۔یہ اعتراض تو تب وارد ہو سکتا ہے جبکہ