ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 136

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۶ جلد نهم اور میں نے کسی کو نہیں کہا کہ زلزلہ یا طاعون سے ڈر کر قادیان آفات سے بچنے کا طریق میں آجائیں۔ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اور خدا اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور زلزلہ کے دن قریب آتے جاتے ہیں جس سے جانوں کا بہت نقصان ہوگا مگر نہیں معلوم کہ وہ نہایت سخت زلزلہ کب آئے گا۔ ڈوئی کا مرنا حقیقت میں بڑی فتح ہے۔ تمام اخباروں میں اس کا ذکر ہے۔ ایک تازہ نشان ذکرتھا کہ آجکل بہت سے شہروں میں سخت طاعون ہے اور قادیان کے ارد گر بھی بہت طاعون ہے۔ صرف گاؤں میں نسبتاً آرام ہے۔ فرمایا۔ ہر ایک خبر کا حال نسبتاً ہی معلوم ہوتا ہے دوسری جگہوں میں قہر الہی کی آگ برس رہی ہے مگر جب سے کہ یہ الہام ہوا ہے کہ وو یا اللہ ! اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے تب سے قادیان میں گویا امن ہے۔ یہ بھی ایک تازہ نشان ہے اور سوچنے والوں کے واسطے ازدیاد ایمان کا موجب ہے۔ خواص کی موت کا نشان ذکر آیا کہ ابتو اخباروں میں بڑے بڑے آدمیوں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ فرمایا۔ یہ اس الہام الہی کے منشا کے مطابق میں ہے جس میں خبر دی گئی ہے کہ من الناس وَالْعَامَّةِ یعنی طاعون میں اس حصہ خاص کے لوگ بھی ہلاک ہوں گے اور عام بھی ۔ کا خط جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہوگا ایک دوست کا پیش ہوا کہ چکڑالوی ماں نے اپنا ذہب یہ شائع کیا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو ساتھ ہی روح بھی مر جاتی ہے اور قیامت کے دن پھر ہر دو زندہ کئے جاویں گے تا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی کو جو پہلے مرا ہے زیادہ مدت تک عذاب ہوا اور جو قیامت کے قریب مرے گا اس کو عذاب تھوڑی مدت ہو۔ حضرت نے فرمایا۔ یہ چکڑالوی کی جہالت کا خیال ہے۔ یہ اعتراض تو تب وارد ہو سکتا ہے جبکہ