ملفوظات (جلد 9) — Page 137
جہنم کا عذاب ہمیشہ کے واسطے ہو جس سے انسان کے واسطے کبھی بھی چھٹکارا ہونے والا نہیں ہے اور ہمیشہ کے واسطے وہ جہنم میں رہے گا۔یہ مذہب بالکل غلط ہے اور قرآن شریف اور حدیث کے بالکل برخلاف ہے۔قرآن شریف سے یہ اَمر ثابت ہے کہ ایک وقت عذاب کا گذار کر انسان رفتہ رفتہ عذابِ جہنم سے بچایا جائے گا۔خدا تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ جس انسان کو خدا تعالیٰ (نے) آپ پیدا کیا ہے اور وہ اس کی مخلوق ہے اور اس کی کمی بیشی میں اس کے خلق کا حصہ ہے وہ اس کو ایسا عذاب دے دے کہ کبھی اس کے واسطے نجات ہی نہ ہو۔یہ مذہب تو آریوں کا ہے کہ انسان کے واسطے نجات کبھی نہیں۔وہ کسی نہ کسی جون میں پڑا رہے گا، لیکن معلوم نہیں ہوتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں کیڑے مکوڑے کب تک انسان بنیں گے۔ایک ایک قطرے میں صدہا کیڑے پائے جاتے ہیں۔آریوں کا پرمیشر کیا دیالو ہے کہ کل جگ آگیا مگر تاحال کوئی صورت مکتی کی انسانوں کے واسطے پیدا نہیں ہوئی۔۱ بلاتاریخ بچے کے کان میں اذان حکیم محمد عمر صاحب نے فیروز پور سے دریافت کیا کہ بچہ جب پیدا ہوتاہے تو مسلمان اس کے کان میں اذان کہتے ہیں کیا یہ اَمر شریعت کے مطابق ہے یا صرف ایک رسم ہے؟ فرمایا۔یہ اَمر حدیث سے ثابت ہے اور نیز اس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔لہٰذا یہ رسم اچھی ہے اور جائز ہے۔نشان کے پورا ہونے پر دعوت دینا جائز ہے خان صاحب عبد الحمید نے کپور تھلہ سے حضرت کی خدمت میں ڈوئی کے