ملفوظات (جلد 9) — Page 128
امریکہ میں کثرت سے تقسیم ہوئےا ور امریکہ کی بہت سی اخباروں میں ہماری تصویر اور ہمارے حالات چھپے جس کو لاکھوں آدمیوں نے پڑھا اور ان کے درمیان اس سلسلہ کی تبلیغ ہو چکی ہے۔عذاب کے متعلق سنّت ِالٰہی علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قدیم سے سنّت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ جب عذاب الٰہی آتا ہے تو بدوں کے ساتھ جو نیک ملے جلے ہوتے ہیں ان میں سے بھی بعض کو لپیٹتا ہے پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔دیکھو! حضرت موسٰی کے وقت میں پلوٹھے ہلاک ہوئے تھے تو پلوٹھوں کا اس میں کیا قصور تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں قحط پڑا۔تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر سب پر ہوا تھا نہ یہ کہ صرف بعض پر ہوا ہو۔یہ لوگ سنّت اللہ سے بے خبر ہیں جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔صدقات اور توبہ سے بَلا ٹل جاتی ہے فرمایا۔تمام مذاہب کے درمیان یہ اَمر متفق ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بَلا ٹل جاتی ہے اور بَلا کے آنے کے متعلق اگر خدا تعالیٰ پہلے سے خبر دے تو وہ وعید کی پیش گوئی ہے۔پس صدقہ و خیرات سے اور توبہ کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے سے وعید کی پیش گوئی بھی ٹل سکتی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بَلا ٹل جاتی ہے۔ہندو بھی مصیبت کے وقت صدقہ خیرات دیتے ہیں۔اگر بَلا ایسی شَے ہے کہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات سب عبث ہوجاتے ہیں۔آتھم اور لیکھرام کا رویہ آتھم اور لیکھرام میں بھی فرق تھا کہ پیشگوئی کو سن کر آتھم خوف کھا گیا۔اسی وقت بھری مجلس میں کانوں کو ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گالی نہیں دی اور تمام شوخیاں چھوڑ دیں۔اس واسطے اس کو چند روز اور مہلت مل گئی۔لیکن بر خلاف اس کے لیکھرام نے شوخی اختیار کی اور روز بروز شوخی میں بڑھتا گیا۔پس اس کو میعاد کے دنوں کی بھی پوری مہلت نہ دی گئی۔اگر وہ بھی آتھم کی طرح خاموش ہو جاتا اور خدا سے ڈرتا تو اس کے ایام میں بھی تاخیر دی جاتی۔ایسا ہی احمد بیگ نے چونکہ کوئی نمونہ نہ