ملفوظات (جلد 9) — Page 127
فرمایا۔خدا تعالیٰ پر پورا ایمان ہو تو انسان کے دل میں خوف اور خشیت بھی ہوتی ہے۔جیسے ایمان کم ہوتا جاتا ہے ویسے ہی خشیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔دنیا میں عذاب الٰہی کا باعث شوخی اور تکذیب ہے فرمایا۔میرا مذہب سچائی کے ساتھ اس بات پر قائم ہے کہ جس قدر لوگ نوحؑاور لوطؑاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر پیغمبروں کے زمانہ میں ہلاک ہوئے اگر وہ انبیاء کے ساتھ شوخی سے پیش نہ آتے اور ان کی تکذیب نہ کرتے تومعمولی طور پر زندگی بسر کرتے۔دنیا میں جو گناہ فسق و فجور کے کرتا تھا ان کے واسطے جزا کا وقت آخرت میں رکھا گیا ہے۔اس دنیا میں عذاب جب آتا ہے وہ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے زیادہ تر آتا ہے۔اگر فرعون حضرت موسٰی کے ساتھ بد سلوکی نہ کرتا تو چند دن اور دنیا میں سلطنت کر لیتا۔معمولی گناہوں کے واسطے محاسبہ اور مؤاخذہ کا دن قیامت ہے۔لیکن وہ گناہ جس پر خدا تعالیٰ بڑی غیرت دکھلاتا ہے وہ اس کے فرستادوں کی تکذیب اور ان کے ساتھ شوخی سے پیش آنا ہے جبکہ شوخی حد سے بڑھ جاتی ہے اور خدا کے پاک نبیوں کو دکھ دیا جاتا ہے اور اس کے برخلاف ظلم اور شرارت اور بدمعاشی سے کام لیا جاتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو اسی دنیا میں عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔اگر یہ لوگ انکسار اختیار کرتے تو ہلاک نہ ہوتے۔حضرت عیسیٰ نے اپنے مخالفوں کو کہا تھا کہ تم کنجروں سے بدتر ہو کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں پر اپنے آپ کو گناہ گار سمجھ کر انکسار اختیار کرتے ہیں اور تم گناہ کرتے ہو اور اس پر خوش ہوتے ہو اور کارِ ثواب جانتے ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہےمَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ(النّساء:۱۴۸) یعنی اگر تم شکریہ ادا کرو اور ایمان لاؤ تو خدا نے تمہیں عذاب کر کے کیا لینا ہے۔یہ تمہارے بد اعمال ہی تم کو عذاب میں گراتے ہیں۔امریکہ میں تبلیغ یہ اعتراض ناجائز ہے کہ امریکہ میں آپ کی تبلیغ نہیں پہنچی پھر وہاں عذاب کیوں آیا۔ہماری تبلیغ بہت ہوچکی ہے۔ابتدا میں مَیں نے ایک اشتہار سولہ ہزار چھپوا کر یورپ امریکہ میں روانہ کیا تھا اور اسی اشتہار کو پڑھ کر امریکہ سے محمد ویب نے خط و کتابت شروع کی تھی جبکہ وہ مسلمان بھی نہ ہوا تھا۔اس کے بعد ڈوئی کے متعلق پیشگوئی کے اشتہارات