ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 126

ان کا نگران رہا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد تو خود ان کا نگران تھا (مجھے کچھ خبر نہیں) اور تو ہر بات کو دیکھتا ہے۔اب اس جگہ سوچنے کے قابل یہ بات ہے کہ قیامت کا دن ہوگا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہوں گے اور وہ گھڑی ہوگی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ(المائدۃ:۱۲۰) وہ دن ہوگا جبکہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔اچھا تو ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کو یہ کہیں گے کہ میں جب تک دنیا میں تھا تب تو ان کو وحدانیت کا وعظ کرتا تھا۔بعد کی خبر نہیں انہیں کیا ہوگیا۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس وقت زمین میں مدفون ہیں یا کہیں آسمان پر بیٹھے ہوئے۔اس جگہ یہ اَمر سب سے زیادہ قابل غور ہے کہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور چالیس سال تک رہیں گے اور عیسائیوں کو انہیں اور ان کی ماں کو خدا بنانے کے سبب خوب سزا بھی دیں گے اور پھر ان کی اصلاح بھی کریں گے اور ماننے والوں کو مسلمان بنائیں گے تو پھر قیامت کے دن ان کا جواب یہ کیوں ہونا چاہیے کہ مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا اور کیا نہ ہوا بلکہ انہیں تو یہ جواب دینا چاہیے کہ اے باری تعالیٰ! میں نے تو ان کے ایسے عقیدے کے سبب ان کو خوب سزائیں دی ہیں اور ان کی صلیب کو توڑا ہے اور چالیس سال تک ان کی خوب خبر لی ہے۔سو دیکھنا چاہیے کہ اگر مسیح دوبارہ دنیا میں آوے گا تو کیا اس کا یہ جواب جو قرآن شریف میں درج ہے سچا ہوگا؟ اور اگر ان ملّانوں کی بات درست مان لی جاوے تو روز قیامت حضرت عیسیٰ کو ایسا جواب دینے سے کیا انعام ملے گا؟ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ ایسی باتیں بنا کر وہ ایک خدا کے نبی کو نَعُوْذُ بِاللہِ جھوٹ بولنے والا قرار دے رہے ہیں اور پھر جھوٹ بھی قیامت کے دن اور پھر وہ بھی خدا کے دربار میں نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ۔خشیت الٰہی ایمان سے پیدا ہوتی ہے ذکر تھا کہ باوجود اس قدر وبا اور تکالیف کے لوگوں میں شوخی بڑھی ہوئی ہے اور کچھ پروا نہیں کرتے۔