ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 123

بلا سوچے سمجھے گالیاں نہ دیں اور مخالفت نہ کریں کم از کم ہمارے دلائل کو ایک دفعہ بغور مطالعہ کر لیں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں۔پھر ان کو معلوم ہو جاوے گا کہ حق کس بات میں ہے۔(بوقتِ ظہر) طلباء کی سٹرائیک علی گڑھ کالج کے طالب علم مولوی غلام محمد صاحب نے وہاں کے طلباء کی سٹرائیک اور اپنے استادوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس جماعت (فرقہ احمدیہ ) کا کوئی لڑکا اس سٹرائیک میں شامل نہیں ہوا۔میاں محمد دین، عبد الغفار وغیرہ سب علیحدہ رہے لیکن عزیز احمد ان طلباء کے ساتھ شریک رہا اور باوجود ہمارے سمجھانے کے باز نہ آیا اور چونکہ بعض اخباروں میں اس قسم کے مضمون نکلے تھے کہ مسیح موعود کا پوتا علی گڑھ کالج میں ہے اس وجہ سے عام طور پر عزیز احمد کا رشتہ حضور کے ساتھ سب کو معلوم ہونے کے سبب وہاں کے اراکین نے اس اَمر پر تعجب ظاہر کیا کہ عزیز احمد اس مفسدہ میں ایسا حصہ لیتا ہے۔اس پر حضرت اقدس مرزا صاحب نے فرمایا کہ ’’عزیز احمد نے اپنے استادوں اور افسروں کی مخالفت میں مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے لہٰذا وہ اس دن سے جس دن سے وہ اس بغاوت میں شریک ہے ہماری جماعت سے علیحدہ اور ہماری بیعت سے خارج کیا جاتا ہے۔ہم ان لڑکوں پر خوش ہیں جنہوں نے اس موقع پر ہماری تعلیم پر عمل کیا۔بہت سے لوگ بیعت میں آکر داخل ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ شرائط بیعت پر عمل نہیں کرتے تو خود بخود اس سے خارج ہوجاتے ہیں یہی حال عزیز احمد کا تھا۔اس میں خصوصیت نہ تھی اور یہ اَمر کہ ہمارا وہ پوتا ہے اس وجہ سے وہ ہمارا رشتہ دار ہے سو واضح ہو کہ ہم ایسے رشتوں کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ہمارے رشتے سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہیں۔عزیز احمد کا باپ خود ہم سے برگشتہ ہے اور ہم اس کو اپنا بیٹا نہیں سمجھتے تو پھر عزیز احمد کا پوتا ہونا کیسا؟ عزیز احمد کو چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں اوّل ہم سے مشورہ کرتا یا اس مثال کو دیکھتا جو پہلے میڈیکل کالج لاہور میں قائم ہو چکی تھی کہ جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جو لڑکے اس جماعت میں داخل تھے ان کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت