ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 122

تمہارے ساتھ کوئی ذاتی عداوت نہیں۔چونکہ تم دین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں کو دکھ دیتے ہو اس واسطے تم واجب القتل ہو اور میں محض دینی ضرورت کے سبب تم کو پکڑتا تھا۔لیکن جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا اور اس میں مجھے غصہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ اب نفسانی بات درمیان میں آگئی ہے اب اس کو کچھ کہنا جائز نہیں تاکہ ہمارا کوئی کام نفس کے واسطے نہ ہو۔جو ہو سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہو۔جب میری اس حالت میں تغیر آئے گا اور یہ غصہ دور ہوجائے گا تو پھر وہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔اس بات کو سن کر کافر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تمام کفر اس کے دل سے خارج ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر اور کون سا دین دنیا میں اچھا ہو سکتا ہے جس کی تعلیم کے اثر سے انسان ایسا پاک نفس بن جاتا ہے۔پس اس نے اسی وقت توبہ کی اور مسلمان ہوگیا۔غرض انسانوں کو چاہیے کہ دنیوی کدورتوں کے سبب باہم رنجش پیدا نہ کریں اور پھر یہ دن تو وبا اور زلازل اور قہرِ الٰہی کے دن ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں رہنا چاہیے۔مولویوں کے پیروکار ایک شخص نے ذکر کیا کہ بعض مولوی قسما قسم کے افترا کر کے لوگوں کو بہکاتے ہیں۔حضرت نے فرمایا۔ان کے ہاتھ سوائے افترا پردازی کے اور کیا ہے؟ لیکن جو لوگ ان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں وہ خود کمزور اور ضعیف ہیں اور دنیا داری میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دین کی ان کو ہرگز کوئی خبر ہی نہیں۔وہ خود سوچ فکر سے کام نہیں لیتے ورنہ ایسے شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رہتے جو ہماری باتوں کو تراش خراش کر افترا کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔کتاب حقیقۃ الوحی کے لیے قَسم فرمایا۔کتاب حقیقۃ الوحی میں ہم نے تمام قسم کی باتوں کو مختصر طور پر جمع کر دیا ہے اور اس میں قَسم دی ہے کہ لوگ کم از کم اوّل سے آخر تک اس کو پڑھ لیں۔دوسرے کی قَسم کا نہ ماننا بھی تقویٰ کے برخلاف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسرے کی قَسم پوری ہونے دی تھی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بھی دوسرے آدمی کی قَسم کو پورا کیا تھا۔غرض ہم ایک نیک کام کے واسطے قَسم دیتے ہیں کہ وہ