ملفوظات (جلد 9) — Page 117
کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو درست نہ کر لیں۔طاعون کو دفع کرنے کے لیے بےچارے چوہوں کے مارنے کے درپے ہو رہے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ جب تک ان کے اندر کا چوہا نہ مَرے گا اس وقت تک طاعون ان کا ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گی۔پس اپنی اصلاح کریں اور خدا تعالیٰ سے ڈریں۔اگر یہ لوگ اپنی اصلاح کریں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ ہلاک ہی کرے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ (النساء:۱۴۸) کہ خدا تم کو عذاب دے کر کیاکرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ہمارے مسلمان سلاطین کا ذکر ہے کہ جب کوئی بَلا آتی تھی تو بادشاہ خود دعا و زاری بدرگاہ ربّ العالمین کرتے تھے اور رعیت کو نیکیوں کی طرف رغبت دلاتے تھے۔جب ٹیکہ لگایا جانا شروع ہوا تو میں نے کتاب کشتی نوح لکھی تھی اور اس میں مَیں نے ظاہر کیا تھا کہ اس ٹیکہ سے جو مَیں آسمانی ٹیکہ پیش کرتا ہوں بہتر ہے۔آخر وہی بات سچی ثابت ہوئی جو ہم نے پیش کی تھی۔شاید کسی کو کسی وقت سمجھ آجاوے۔طاعون تو اب ہاتھ دھوکر لوگوں کے پیچھے ہو پڑی ہے۔قادیان کے کسی شخص کا ذکر ہوا کہ فلاں جگہ طاعون ہے اور وہ وہاں بار بار جاتا رہا۔آخر وہ طاعون میں گرفتار ہوکر مَر گیا۔حضرت اقدس نے فرمایا۔جبکہ ایک جگہ آگ برستی ہے تو اس جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مخالفین کا مباہلہ فرمایا۔اس ملک کے کئی ایک آدمی جو ہمیں گالیاں دیتے رہتے تھے اور پیچھا نہ چھوڑتے تھے۔جب ان کی مدت نزدیک آئی تو خود ہی انہوں نے مباہلہ کر لیا کہ یا الٰہی! ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس کو ہلاک کر دے آخر وہ خود ہی ہلاک ہو کر ہماری سچائی پر مہر کر گئے۔ایسا ہی ابو جہل نے بدر کے دن نبی علیہ السلام سے مباہلہ کیا تھا۔ابو جہل نے کہا تھا کہ جو ہم دونوں میں سے قطع رحم کرنے والا اور مفسد ہو اے خدا! اس کو آج ہلاک کر دے۔آخر خدا تعالیٰ