ملفوظات (جلد 9) — Page 116
ملفوظات حضرت مسیح موعود ١١۶ جلد نهم علم ایمانی طاقت علم سے پیدا ہوتی ہے بات یہ ہے کہ ایمانی طاقت سم کے ہوا پیدا نہیں ہے ہوتی ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ۔ صحابہ نے بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی جانیں دے دی تھیں ان کو حق کا علم حاصل ہو گیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو نہ دیکھا۔ میں نے جو کتاب حقیقۃ الوحی لکھی ہے اس کو جو شخص حرف بحرف پڑھ لے گا میں نہیں خیال کرتا کہ پھر وہ یہ خیال کرے کہ میں وہی ہوں جو اس کے خیال میں پڑھنے سے پہلے تھا جو شخص ہمارے سلسلہ کو آہستگی اور ٹھنڈے دل سے دیکھے گا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حق پر پائے گا۔ سچائی میں خدا انے ایک قوت رکھی ہے۔ سچائی دلوں کو خود اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ خدا نے تو لو ہے میں کا بھی ایک کشش کی خاصیت رکھی ہے تو کیا سچ میں کوئی جذب نہیں ہے؟ سچ میں ایک کشش ہے وہ خود بخود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔ ۔ عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اصلاح کریں دنیا میں ایک دہریت پھیل رہی ہے۔ تحصیل دنیا ۔ تحصیل دنیا کے لیے ہر وقت دوڑ دھوپ میں لوگ لگے ہوئے ہیں ۔ اس کے لیے مجلسیں ہوتی ہیں اور ان میں شور پکار ہے کہ یہ کرو وہ کرو مگر اسلام کی بہبودی کا کسی کو کوئی فکر نہیں۔ ایسی غفلت میں پھنسے ہوئے ہیں کہ عذاب کے سوائے ان سے غفلت رفع نہیں ہوتی ۔ ہمیں خدا نے صد ہا بار بتایا ہے کہ خدا کے عذاب کے دن نزدیک ہیں اور جب تک لوگوں کے دل سیدھے نہ ہو جاویں خدا کے عذاب پیچھا نہ چھوڑیں گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهم (الرعد: ۱۲) یعنی خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو درست نہ کر لیں ۔ طاعون کو دفع کرنے کے لیے بے چارے چوہوں کے مارنے کے درپے ہورہے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ جب تک ان کے اندر کا چوہا نہ مرے گا اس وقت تک طاعون ان کا ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گی ۔ پس اپنی اصلاح کریں اور خدا تعالیٰ سے ڈریں ۔ اگر یہ لوگ اپنی اصلاح کریں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ ہلاک ہی کرے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمُ (النساء : ۱۴۸) کہ خدا تم کو