ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 110

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١١٠ جلد نهم میں مت پڑو اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا ئیں کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشوا ؤ کہ وہ قادر خدا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے باوجود ان احتیاطوں کے اگر تقدیر الہی آجاوے تو صبر کرو۔ ۱۳ مارچ ۱۹۰۷ء ( قبل نماز ظهر ) دین کو مقدم رکھیں سید حبیب اللہ صاحب آئی ہی ، ایس مجسٹریٹ کے آگرہ سے بیع ایک عزیز رفیق کے قبل نماز ظہر حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گئے ان کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا کہ اتنی تکلیف اٹھا کر اس جگہ کوئی شخص بغیر قوت ایمانی کے نہیں آسکتا۔ دنیا داری کے خیال سے تو یہاں آنا گویا اپنے وقت کو ضائع کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ فرمایا۔ دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے سوائے اس حالت کے جب خدا چاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے کہ وہ دنیا کے کاروبار میں پڑ کر بھی اپنے دین کو مقدم رکھے۔ اور ایسے شخص بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص کا ذکر تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص ہزار ہا روپیہ کے لین دین کرنے میں مصروف تھا ایک ولی اللہ نے اس کو دیکھا اور کشفی نگاہ اس پر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا دل با وجود اس قدر لین دین روپیہ کے خدا تعالیٰ سے ایک دم غافل نہ تھا۔ ایسے ہی آدمیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيع ( النور : ۳۸) کوئی تجارت اور خرید و فروخت ان کو غافل نہیں کرتی اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کا روبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔ وہ ٹوکس کام کا ہے جو بروقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے۔ وہ قابل تعریف نہیں ۔ وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۱۶ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۶ ے الحکم سے ۔ ” جو گورنمنٹ انڈیا کی طرف سے امیر کابل کے ہمراہ تھے ۔“ (الحکم جلد ا ا نمبر ۹ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ صفحه ۱۰) سے الحکم نے مجسٹریٹ الہ آبا دیکھا ہے ۔ (مرتب)