ملفوظات (جلد 9) — Page 110
جگہ سے باہر نکلنا انگریزوں کا خیال ہے اور اس واسطے اس کی طرف توجہ کرنا فرض نہیں۔یہ بات نہیں طاعون والی جگہ سے باہر نکلنا یہ فیصلہ شرعی ہے۔گندی ہوا سے اپنے آپ کو بچاؤ۔جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پڑو اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشواؤ کہ وہ قادر خدا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے باوجود ان احتیاطوں کے اگر تقدیر الٰہی آجاوے تو صبر کرو۔۱ ۳؍مارچ ۱۹۰۷ء (قبل نماز ظہر) دین کو مقدم رکھیں سید حبیب اللہ صاحب آئی،سی،ایس مجسٹریٹ۲ آگرہ۳ بمع ایک عزیز رفیق کے قبل نماز ظہر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے ان کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا کہ اتنی تکلیف اٹھا کر اس جگہ کوئی شخص بغیر قوت ایمانی کے نہیں آسکتا۔دنیا داری کے خیال سے تو یہاں آنا گویا اپنے وقت کو ضائع کرنا سمجھا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔فرمایا۔دین اور دنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے سوائے اس حالت کے جب خدا چاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے کہ وہ دنیا کے کاروبار میں پڑ کر بھی اپنے دین کو مقدم رکھے۔اور ایسے شخص بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک شخص کا ذکر تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص ہزارہا روپیہ کے لین دین کرنے میں مصروف تھا ایک ولی اللہ نے اس کو دیکھا اور کشفی نگاہ اس پر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا دل باوجود اس قدر لین دین روپیہ کے خدا تعالیٰ سے ایک دم غافل نہ تھا۔ایسے ہی آدمیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ (النّور:۳۸) کوئی تجارت اور خرید و فروخت ان کو غافل نہیں کرتی اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کاروبار میں بھی مصروفیت ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۶؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ ۲ الحکم سے۔’’ جو گورنمنٹ انڈیا کی طرف سے امیر کابل کے ہمراہ تھے۔‘‘(الحکم جلد ۱۱ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۷ءصفحہ ۱۰) ۳ الحکم نے مجسٹریٹ الٰہ آباد لکھا ہے۔(مرتّب)