ملفوظات (جلد 9) — Page 107
سے گوشت لیں تو دوسرا کہے گا لے لو مگر بھیڑ کا ہے یہ کہے گا اس کا بکرے کا ہے مگر مریض۔انبیاء کی بھی دنیا کے فرزندوں کے ساتھ دشمنی ہوتی ہے مگر وہ کوئی ذاتی عداوت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے وہ اپنی طرف سے کسی کے ساتھ نہیں جھگڑتے۔دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ۱۳ برس تک جوروستم سہنے پڑے۔اور پھر مدافعت کا حکم دیا گیا۔اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا(الـحج:۴۰) سے ظاہر ہے کہ پہلے جواب تک دینے کا بھی حکم نہیں تھا۔اسی لئے دو اصل فرمائے ایک تو اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ(الاعراف:۲۰۰) جن لوگوں میں جہالت کا مادہ ہو جو تکبر سے بھرئے ہوئے جھگڑالو ہوں ان سے اعراض کرنا چاہیے۔ان کی باتوں کا جواب ہی نہ دیا جاوے۔دوم۔اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ(حٰمٓ السجدۃ:۳۵)یعنی بدی کے مقابلہ میں نیکی کرنا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوست بن جاتا ہے اور دوست بھی ایسا کہ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ(حٰمٓ السجدۃ:۳۵)۔۱ ۲۵؍فروری ۱۹۰۷ء (بوقتِ ظہر) نشانات کا ظہور فرمایا۔اب تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اتمامِ حجّت کر دی ہے۔نشان پر نشان ظاہر ہو رہا ہے وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ جیسے تسبیح کے دانے ٹوٹ پڑتے ہیں۔اسی طرح متواتر نشان ظاہر ہوں گے۔اسی وقت کے لیے تھا چنانچہ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک نشان پورا ہو رہتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دوسرا پورا ہوجاتا ہے۔طاعون کے متعلق ایک شخص نے ذکر کیا کہ لدھیانہ میں پانچ جنازے ایک گھر کے ایک ہی وقت میں نکلے۔دوسرے نے یہاں سے بارہ چودہ کوس کے فاصلہ پر ایک گاؤں کا ذکر کیا کہ وہاں نو آدمی ایک کنبے کے اکٹھے رات کو چنگے بھلے سوئےا ور صبح سات مُردہ پائے گئے۔پھر کچھ دیر کے بعد ایک لڑکا مَر گیا۔آپ نے فرمایا۔یہ خدا تعالیٰ کے قہری نشان ہیں۔افسوس! کہ لوگ اس پر بھی نہیں سمجھتے۔