ملفوظات (جلد 9) — Page 101
جاتا ہے تو تب حقیقت اشیاء کے قائل ہوجاتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کا ثبوت دنیا پر واضح فرمارہا ہے۔سعد اللہ لدھیانوی سعد اللہ لدھیانوی کا ذکر ہوا تو فرمایا۔میں نے اپنے قصیدہ انجام آتھم میں اس کے متعلق لکھا تھا۔اٰذَیْتَنِیْ خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ اِنْ لَّمْ تَـمُتْ بِالْـخِزْیِ یَا ابْنَ بَغَاءِ یعنی خباثت سے تو نے مجھے ایذا دی ہے۔پس اگر تو اب رسوائی سے ہلاک نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہ ٹھہروں گا۔اے سرکش انسان! فرمایا۔اسی طرح سعد اللہ نے بھی میرے حق میں لکھا ہے کہ تیرا اخذ یمین اور قطع وتین اور تیرا سلسلہ تباہ ہوگا۔اب یہ اس نے مباہلہ کر لیا تھا۔دیکھو اب کون تباہ و ہلاک ہو۔یہ بھی مباہلہ کا نتیجہ تھا کہ وہ لکھتا ہے کہ یہ کذاب ہے۔اب دیکھو کہ کذاب کا یہی حال ہوا کرتا ہے کہ اس کے مقابل پر مومن اور سچے ہلاک ہوتے جاویں؟ ہر اَمر میں کاذب غالب ہو اور اس کو خدا کی نصرت ملتی جاوے اور خدا تعالیٰ سچوں پر تباہی اور ہلاکت وارد کرتا جاوے؟ ہماری صداقت کا آفتاب چڑھ آیا ہے۔کیا خدا دجالوں اور کاذبوں کے ساتھ ایسا ہی کرتا آیا ہے کہ کاذبوں کو مہلت دیتا جاوے اور ان کے مقابل سچوں کو ہلاک کرتا جاوے؟ کیا اس بات کا ثبوت کسی سابق زمانہ میں کوئی کبھی گذرا ہے کہ خدا نے ایسا کیا ہو؟ دراصل اب دنیا میں دہریت پھیل گئی ہے۔اب تو ہماری صداقت کا آفتاب چڑھ آیا ہے۔یہ وہ امور ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے۔۱ (بوقتِ ظہر) خدا تعالیٰ کے اِذن کے بغیر کوئی سبب مؤثر نہیں آج کل جو خطرناک امراض ترقی پذیر ہو رہے ہیں ان کے متعلق ذکرہونے