ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 92

ملفوظات حضرت مسیح موعود کی عدم حریت و آزادی کے متعلق ذکر ہوا ۔ کے ۹۲ جلد نهم فرمایا کہ اخبارات میں جو آجکل لکھا جا رہا ہے کہ حکومت افغانستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو عام آزادی حاصل ہے سراسر دروغ بے فروغ ہے کیونکہ اگر افغانستان میں ہندوستان جیسی رض حریت اور آزادی ہر مذہب کے لوگوں کو حاصل ہوتی تو اخوند زادہ حضرت مولوی محمد عبد اللطیف کو اس سخت بے دردی سے اختلاف مذہب کے سبب اس حکومت میں ہلاک نہ کیا جاتا۔ ہے تازه وحی بعد ازاں حضرت نے خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کا ذکر فرمایا جو پہلے سے درج ہو چکی ہے اور اس میں سے مندرجہ ذیل فقرہ سنایا۔ تشریح میں فرمایا۔ آسمان ٹوٹ پڑا سارا معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔ اگر چہ کثرت بارش سے بھی آسمان کا ٹوٹ پڑنا مراد ہو سکتا ہے مگر ان الہامات کی تشریح میں ہم کسی پہلو پر زور نہیں دیتے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جس رنگ وصورت میں چاہا، واقع ہوں گے۔ ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی وحشت ناک امر واقع ہونے والا ہے جس سے لوگ متحیر و خوف زدہ ہو جاویں گے۔ لہذا خدا تعالیٰ نے ان کی طرف سے حکایتاً بیان فرمایا ہے کہ معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔ فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے۔ قریب آ گیا ہے۔ لے بدر سے ۔ افغانستان کا ذکر تھا کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ جو کہ اس جگہ ہیں تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں تو امید ہے کہ بہت فائدہ ہو۔ فرمایا ۔ اگر ایک شخص بھی تمہارے ذریعہ سے دین کو اچھی طرح سمجھ لے تو یہ ایک بڑے ثواب کا کام ہے۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ صفحه (۴) کے بدر سے۔ خیر ہم خدا تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی راہ پیدا کر دے گا جس سے ان ممالک میں پوری تبلیغ ہوگی ۔“ 66 ( بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ صفحه (۴) سے الحکم میں ایک اور جگہ یوں درج ہے۔ ” آسمان ٹوٹ پڑا سارا۔ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے 66 الحکم جلدا انمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۷ صفحه ۱ )