ملفوظات (جلد 9) — Page 90
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اس کو لکھو کہ قربانی کا جانور اس قیمت سے لے کر وہاں ہی قربانی کر دے۔عرض کی گئی کہ اس کا حصہ قیمت جو گائے کے خریدنے میں تھا وہ بہت تھوڑا ہے۔اس سے دنبہ بکرا خرید نہیں سکے گا۔حضرت نے فرمایا۔اس کو لکھو کہ تم نے جبکہ اپنے اوپر قربانی ٹھہرائی ہے اور طاقت ہے تو اب تم پر اس کا دینا لازم ہے اور اگر طاقت نہیں تو پھر اس کا دینا لازم نہیں۔(۲)۱ خط سے سوال پیش ہوا کہ میں بوقت سحر بماہ رمضان اندر بیٹھا ہوا بے خبری سے کھاتا پیتا رہا۔بقیہ حاشیہ) ایک بکرا قربانی کرو۔اگر کم ہے اور زیادہ کی تم کو توفیق نہیں تو تم پر قربانی کا دینا فرض نہیں ہے۔غیروں کے ساتھ مل کر قربانی ایک شخص نے سوال پیش کیا کہ کیا ہم غیر احمدیوں کے ساتھ مل کر یعنی تھوڑے تھوڑے روپے ڈال کر کوئی جانور مثلاً گائے ذبح کریں تو جائز ہے۔فرمایا۔ایسی کیا ضرورت پڑ گئی ہے کہ تم غیروں کے ساتھ شامل ہوتے ہو اگر تم پر قربانی فرض ہے تو بکرا ذبح کر سکتے ہو۔اور اگر اتنی بھی توفیق نہیں تو پھر تم پر قربانی فرض ہی نہیں وہ غیر جو تم کو اپنے سے نکالتے ہیں اور کافر قرار دیتے ہیں وہ تو پسند نہیں کرتے کہ تمہارے ساتھ شامل ہوں تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ شامل ہو خدا پر توکل کرو۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸) ۱ بدر سے۔سفیدی میں نیت روزہ ’’ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میں مکان کے اندر بیٹھا ہوا تھا اور میرا یقین تھا کہ ہنوز روزہ رکھنے کا وقت ہے اور میں نے کچھ کھا کر روزے کی نیت کی مگر بعد میں ایک دوسرے شخص سے معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہوگئی تھی۔اب میں کیا کروں۔حضرت نے فرمایا کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہوگیا دوبارہ رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اس نے احتیاط کی اورنیت میں فرق نہیں صرف غلطی لگ گئی اور چند منٹوں کا فرق پڑ گیا۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۷ مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)