ملفوظات (جلد 8) — Page 82
دشمن ہے۔تم سب مل کر جو مجھ پر حملہ کرو خدا کا غضب اس سے کہیںبڑھ کر ہوتا ہے۔پھر اس کے غضب سے کون بچا سکتا ہے۔وعیدی پیشگوئی ٹل سکتی ہے یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ وعید کی پیشگوئیاں بعض پوری کردے گا۔کُل نہیں کہا۔اس میں حکمت کیا ہے؟ حکمت یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئیاںمشروط ہوتی ہیں۔وہ توبہ، استغفار اور رجوع اِلَی الحق سے ٹل بھی جایا کرتی ہیں۔پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وعدہ کی جیسے فرمایاوَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ (النّور:۵۶) اہل سنّت مانتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئیوں میں تخلّف نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کریم ہے۔لیکن وعید کی پیشگوئیوں میں وہ ڈرا کر بخش بھی دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم ہے۔بڑا نادان اور اسلام سے دُور پڑا ہوا ہے وہ شخص جو کہتا ہے وعید کی سب پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔وہ قرآن کریم کو چھوڑتا ہے۔اس لئے کہ قرآن شریف تو کہتا ہے يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ(المؤمن:۲۹)۔افسوس ہے بہت سے لوگ مولوی کہلاتے ہیں مگر انہیں نہ قرآن کی خبر ہے نہ حدیث کی نہ سنّت انبیاء کی۔صرف بغض کی جھاگ ہوتی ہے۔اس لئے وہ دھوکہ دیتے ہیں۔یاد رکھو اَلْکَرِیْمُ اِذَا وَعَدَ وَفٰی۔رحیم کا تقاضا یہی ہے کہ قابل سزا ٹھیرا کر معاف کر دیتا ہے اور یہ تو انسان کی بھی فطرت میں ہے کہ وہ معاف کر دیتا ہے۔ایک مرتبہ میرے سامنے ایک شخص نے بناوٹی شہادت دی۔اس پر جرم ثابت تھا وہ مقدمہ ایک انگریز کے پاس تھا۔اُسے اتفاقاً چٹھی آگئی کہ کسی دُور دراز جگہ پر اس کی تبدیلی ہوگئی ہے۔وہ غمگین ہوا۔جو مجرم تھا وہ بوڑھا آدمی تھا۔منشی سے کہا کہ یہ تو قیدخانہ ہی میں مر جاوے گا۔اس نے بھی کہا کہ حضور بال بچہ دار ہے۔اس پر وہ انگریز بولا کہ اب مثل مرتب ہو چکی ہے۔اب ہوکیا سکتا ہے۔پھر کہا کہ اچھا اس مثل کو چاک کردو۔اب غور کرو کہ انگریز کو تو رحم آسکتا ہے خدا کو نہیں آتا؟ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ صدقہ اور خیرات کیوں جاری ہے اور ہر قوم میں اس کا رواج ہے۔فطرتاً انسان مصیبت اور بلا کے وقت صدقہ دینا چاہتا ہے اور خیرات کرتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ