ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 81

انہوں نے اس خداداد فراست سے اس امر کو سمجھ لیا ہے۔لیکن جب ایک مسلمان کے سامنے میں اسے پیش کرتا ہوں تو اس کے منہ میں جھاگ آجاتی ہے گویا وہ دیوانہ ہے یا قتل کرنا چاہتا ہے۔حالانکہ قرآن شریف کی تعلیم تو یہی تھی اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ (حٰمٓ السجدۃ:۳۵) یہ تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو وہ اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جاوے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سن لے۔میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں اُس کی طرف سے ہوں۔وہ خوب جانتا ہے کہ میں مفتری نہیں کذّاب نہیں۔اگر تم مجھے خدا تعالیٰ کی قسم پر بھی اور ان نشانات کو بھی جو اس نے میری تائید میں ظاہر کئے دیکھ کر مجھے کذّاب اور مفتری کہتے ہو تو پھر میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ کسی ایسے مفتری کی نظیر پیش کرو کہ باوجود اُس کے ہر روز افترا اور کذب کے جو وہ اللہ تعالیٰ پر کرے پھراللہ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کرتا جاوے۔چاہیے تو یہ تھا کہ اُسے ہلاک کرے مگر یہاں اس کے برخلاف معاملہ ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں صادق ہوں اس کی طرف سے آیا ہوں مگر مجھے کذّاب اور مفتری کہا جاتا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ ہر مقدمہ اور ہر بلا میں جو قوم میرے خلاف پیدا کرتی ہے مجھے نصرت دیتا ہے۔اور اُس سے مجھے بچاتا ہے۔اور پھر ایسی نصرت کی کہ لاکھوں انسانوں کے دل میں میری محبت ڈال دی۔میں اس پر اپنی سچائی کو حصر کرتا ہوں۔اگر تم کسی ایسے مفتری کا نشان دے دو کہ وہ کذّاب ہو اور اللہ پر اس نے افترا کیا ہو اور پھر خدا تعالیٰ نے اس کی ایسی نصرتیں کی ہوں اور اس قدر عرصہ تک اسے زندہ رکھا ہو اور اس کی مرادوں کو پورا کیا ہو۔دکھاؤ۔یقیناً سمجھو کہ خدا کے مُرسل ان نشانات اور تائیدات سے شناخت کئے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ ان کے لیے دکھاتا اور اُن کی نصرت کرتا ہے۔میں اپنے قول میں سچا ہوں۔اور خدا تعالیٰ جو دلوں کو دیکھتا ہے وہ میرے دل کے حالات سے واقف اور خبردارہے۔کیا تم اتنا بھی نہیں کہہ سکتے جو آلِ فرعون کے ایک آدمی نے کہا تھا اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ(المؤمن:۲۹) کیا تم یہ یقین نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں کا سب سے زیادہ