ملفوظات (جلد 8) — Page 78
آرام اور آسانی تھی؟ پھر خود ہی انصاف کرو جب ہم پر ہزاروں احسان ہیں توہم کیونکر شکر نہ کریں۔مسئلہ جہاد کی وضاحت اکثر مسلمان مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ تمہارے سلسلہ میں یہ عیب ہے کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو۔مجھے افسوس ہے کہ وہ نادان اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے ہیں۔آپ نے کبھی اشاعت مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی۔جب آپ پر اور آپ کی جماعت پر مخالفوں کے ظلم انتہا تک پہنچ گئے اور آپ کے مخلص خدّام میں سے مَردوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا اور پھر مدینہ تک آپ کا تعاقب کیا گیا اُس وقت مقابلہ کا حکم ملا۔آپؐ نے تلوار نہیں اُٹھائی مگر دشمنوں نے تلوار اُٹھائی بعض اوقات آپؐ کو ظالم طبع کفار نے سر سے پاؤں تک خون آلود کر دیا تھا مگر آپؐنے مقابلہ نہیں کیا۔خوب یاد رکھو کہ اگر تلوار اسلام کا فرض ہوتا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں اُٹھاتے مگر نہیں وہ تلوار جس کا ذکر ہے وہ اُس وقت اٹھی جب موذی کفار نے مدینہ تک تعاقب کیا۔اس وقت مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر اب تلوار نہیںاور میرے خلاف جھوٹی مخبریوں اور فتووں سے کام لیا جاتا ہے۔اور اسلام کے خلاف صرف قلم سے کام لیا جاتا ہے۔پھر قلم کا جواب تلوار سے دینے والا احمق اور ظالم ہوگا یا کچھ اور؟ اس بات کو کبھی مت بھولو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے حد سے گزرے ہوئے ظلم و ستم پر تلوار اُٹھائی اور وہ حفاظت خود اختیاری تھی جو ہر مہذب گورنمنٹ کے قانون میں بھی جرم نہیں۔تعزیراتِ ہند میں بھی حفاظت خود اختیاری کو جائز رکھا ہے۔اگر ایک چور گھر میں گھس آوے اور وہ حملہ کر کے مار ڈالنا چاہے اس وقت اس چور کو اپنے بچاؤ کے لئے مار ڈالنا جرم نہیں ہے۔۱ پس جب حالت یہاں تک پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار خدام شہید کر دیئے گئے اور مسلمان ضعیف عورتوں تک کو نہایت سنگدلی اور بے حیائی کے ساتھ شہید کیا گیا تو کیا حق نہ تھا ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۴ مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳