ملفوظات (جلد 8) — Page 77
ہوتا ہے۔یہ مقدمہ ایک لمبے عرصہ تک ہوتا رہا۔اس اثنا میں بہت سے نشانات ظاہر ہوئے۔آخر مجسٹریٹ نے جو ہندو تھا مجھ پر صما؍ (پانچسو) روپیہ جرمانہ کر دیا۔مگر خدا تعالیٰ نے پہلے سے یہ اطلاع دی ہوئی تھی۔’’عدالتِ عالیہ نے اس کو بَری کر دیا۔‘‘ اس لئے جب وہ اپیل ڈویژنل جج کے سامنے پیش ہوا، خدا داد فراست سے انہوں نے فوراً ہی مقدمہ کی حقیقت کو سمجھ لیا اور قرار دیا کہ کرم دین کے حق میں میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ بالکل درست تھا یعنی مجھے اس کے لکھنے کا حق حاصل تھا۔چنانچہ اس نے جو فیصلہ لکھا ہے وہ شائع ہو چکا ہے۔آخر اس نے مجھے بَری ٹھہرایا اور جرمانہ واپس کیا اور ابتدائی عدالت کو بھی مناسب تنبیہ کی کہ کیوں اتنی دیر تک یہ مقدمہ رکھا گیا۔غرض جب کوئی موقع میرے مخالفوں کو ملا ہے انہوں نے میرے کچل دینے اور ہلاک کر دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے ہر آگ سے بچایا اُسی طرح جس طرح پر وہ اپنے رسولوں کو بچاتا آیا ہے۔میں ان واقعات کو مدّ نظر رکھ کر بڑے زور سے کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ بمراتب اس رومی گورنمنٹ سے بہتر ہے جس کے زمانہ میں مسیحؑ کو دُکھ دیا گیا۔پیلاطوس گورنر جس کے روبرو پہلے مقدمہ پیش ہوا وہ دراصل مسیح کا مرید تھا اور اس کی بیوی بھی مرید تھی۔اسی وجہ سے اس نے مسیح کے خون سے ہاتھ دھوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ مرید تھا اور گورنر تھا اُس نے اِس جرأت سے کام نہیں لیا جو کپتان ڈگلس نے دکھائی۔وہاں بھی مسیح بےگناہ تھا اور یہاں بھی میں بے گناہ تھا۔میں سچ کہتا ہوں اور تجربہ سے کہتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو حق کے لئے ایک جرأت دی ہے۔پس میں اس جگہ پر تمام مسلمانوں کو نصیحت کرتاہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں۔یہ بخوبی یاد رکھو کہ جو شخص اپنے محسن انسان کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ خدا تعالیٰ کا شکر بھی نہیں کر سکتا۔جس قدر آسائش اور آرام اس زمانہ میں حاصل ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ریل،تار، ڈاکخانہ، پولیس وغیرہ کے انتظام دیکھو کہ کس قدر فوائد ان سے پہنچتے ہیں۔آج سے ساٹھ ستّر برس پہلے بتاؤ کیا ایسا