ملفوظات (جلد 8) — Page 76
اس کو کہا تو وہ روتا ہوا اُن کے پاؤں پر گِر پڑا۔اور کہنے لگا کہ مجھے بچا لو۔کپتان صاحب نے اس کو تسلی دی۔اور کہا کہ ہاں بیان کرو۔اس پر اُس نے اصلیّت کھول دی اور صاف اقرار کیا کہ مجھے دھمکا کر یہ بیان کرایا گیا تھا۔مجھے ہرگز ہرگز مرزا صاحب نے قتل کے لئے نہیں بھیجا۔کپتان اس بیان کوسُن کر بہت خوش ہوا اور اُس نے ڈپٹی کمشنر کو تار دیا کہ ہم نے مقدمہ نکال لیا ہے چنانچہ پھر گورداسپور کے مقام پر یہ مقدمہ پیش ہوا۔اور وہاں کپتان لیمارچنڈ کو حلف دیا گیا اور اس نے اپنا حلفی بیان لکھوایا۔میں دیکھتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اصلیت کے کھل جانے سے بڑا خوش تھا۔اور اُن عیسائیوں پر اُسے سخت غصّہ تھا جنہوں نے میرے خلاف جھوٹی گواہیاں دی تھیں۔اُس نے مجھے کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔مگر چونکہ میں مقدمہ بازی سے متنفر ہوں میں نے یہی کہا کہ میں مقدمہ نہیںکرنا چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔اس پر اُسی وقت ڈگلس صاحب نے فیصلہ لکھا۔ایک مجمع کثیر اُس دن جمع ہوگیا ہوا تھا اُس نے فیصلہ سُناتے وقت مجھے کہا کہ آپ کو مبارک ہو۔آپ بَری ہوئے۔اَب بتاؤ کہ یہ کیسی خوبی اس سلطنت کی ہے کہ عدل اور انصاف کے لئے نہ اپنے مذہب کے ایک سرگروہ کی پروا کی اور نہ کسی اور بات کی۔میں دیکھتا تھا کہ اس وقت میری دشمن تو ایک دنیا تھی۔اور ایسا ہی ہوتا ہے جب دنیا دکھ دینے پر آتی ہے تو درو دیوار نیش زنی کرتے ہیں۔خدا ہی ہوتا ہے جو اپنے صادق بندوں کو بچا لیتا ہے۔پھر مسٹر ڈوئی کے سامنے ایک مقدمہ ہوا۔پھر ٹیکس کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا مگر ان تمام مقدمات میں خدا نے مجھے بَری ٹھہرایا۔پھر آخر کرم دین کا مقدمہ ہوا۔اس مقدمہ میں میری مخالفت میں سارا زور لگایا گیا اور یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ بس اب اس سلسلہ کا خاتمہ ہے۔اور حقیقت میں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سلسلہ نہ ہوتا اور وہی اس کی تائید اور نصرت کے لئے کھڑا نہ ہوتا تو اس کے مٹنے میں کوئی شک و شبہ ہی نہ رہا تھا۔ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کرم دین کی حمایت کی گئی۔اور ہر طرح سے اس کو مدد دی گئی۔یہاں تک کہ اس مقدمہ میں بعض نے مولوی کہلا کر میرے خلاف وہ گواہیاں دیں جو سراسر خلاف تھیں۔اور یہاں تک بیان کیا کہ زانی ہو، فاسق ہو، فاجر ہو پھر وہ متقی