ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 75

ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے اجلاس میں تھا جو شاید اب شملہ میں ہیں۔۱ اُن کے روبرو مقدمہ پورے طور پر مرتّب ہوگیا اور تمام شہادتیں میرے خلاف بڑے زور شور سے دی گئیں۔ایسی حالت اور صورت میں کوئی قانون دان اہل الرائے بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں بَری ہو سکتا ہوں۔تقاضائے وقت اور صورتیں ایسی واقع ہوچکی تھیں کہ مجھے سیشن سپرد کر دیا جاتا اور وہاں سے پھانسی کا حکم ملتا یا عبور دریائے شور کی سزا دی جاتی مگر خدا تعالیٰ نے جیسے مقدمہ سے پہلے مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح یہ بھی قبل از وقت ظاہر کر دیا تھا کہ میں اِس میں بَری ہوں گا۔چنانچہ یہ پیشگوئی میری جماعت کے ایک گروہ کثیر کو معلوم تھی۔غرض جب مقدمہ اس مرحلہ پر پہنچا اور دشمنوں اور مخالفوں کا یہ خیال ہوگیا کہ اب مجھے مجسٹریٹ سیشن سپرد کرے گا۔اس موقعہ پر اس نے کپتان پولیس سے کہا کہ میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے۔میرا دل اس کو نہیں مانتا کہ فی الواقعہ ایسی کوشش کی گئی ہو۔اور انہوں نے ڈاکٹر کلارک کے قتل کے لئے آدمی بھیجا ہو۔آپ اس کی پھر تفتیش کریں۔یہ وہ وقت تھا کہ میرے مخالف میرے خلاف ہر قسم کے منصوبوںہی میں نہ لگے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ جن کو قبولیت دعا کے دعوے تھے وہ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے اور رو رو کر دعائیں کرتے تھے کہ میں سزایاب ہو جاؤں مگر خدا تعالیٰ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ کپتان ڈگلس صاحب کے پاس بعض سپارشیں بھی آئیں مگر وہ ایک انصاف پسند مجسٹریٹ تھا۔اُس نے کہا کہ ہم سے ایسی بدذاتی نہیں ہو سکتی۔غرض جب مقدمہ دوبارہ تفتیش کے لئے کپتان لیمارچنڈ کے سپرد کیا گیا تو کپتان صاحب نے عبدالحمید کو بلایا اور اُس کو کہا کہ تو سچ سچ بیان کر۔عبدالحمید نے اس پر بھی وہی قصہ جو اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر کے رو برو بیان کیا تھا دوہرایا۔اُس کو پہلے سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر ذرا بھی خلاف بیانی ہوگی تو تُو پکڑا جاوے گا اِس لئے وہ وہی کہتا گیا۔مگر کپتان صاحب نے اس کو کہا کہ تُو تو پہلے یہی بیان کر چکا ہے۔صاحب اس سے تسلّی نہیں پاتے کیونکہ تو سچ سچ بیان نہیں کرتا۔جب دوبارہ کپتان لیمارچنڈ نے الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴،۵