ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 74

سامان اس مبارک عہد میں ہمیں میسّر ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا آزادی ہوگی کہ ہم عیسائی مذہب کی تردید زور شور سے کرتے ہیں اور کوئی نہیں پوچھتا مگر اس سے پہلے ایک زمانہ تھا اُس زمانہ کے دیکھنے والے بھی اب تک موجود ہیں۔اُس وقت یہ حالت تھی کہ کوئی مسلمان اپنی مسجدوں میں اذان تک نہیں کہہ سکتا تھا۔اور باتوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔اورحلال چیزوں کے کھانے سے روکا جاتا تھا۔کوئی باقاعدہ تحقیقات نہ ہوتی تھی مگر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ ہم ایک ایسی سلطنت کے نیچے ہیں جو ان تمام عیوب سے پاک ہے یعنی سلطنت انگریزی جو امن پسند ہے جس کو مذاہب کے اختلاف سے کوئی اعتراض نہیں۔جس کا قانون ہے کہ ہر اہل مذہب آزادی سے اپنے مذہبی فرض ادا کرے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ہماری تبلیغ ہر جگہ پہنچ جاوے اس لئے اُس نے ہم کو اس سلطنت میں پیدا کیا جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوشیرواں کے عہد سلطنت پرفخر کرتے تھے اسی طرح پر ہم کو اس سلطنت پر فخر ہے۔یہ قاعدوئی بات ہے کہ مامور چونکہ عدل اور راستی لاتا ہے اس لئے اس سے پہلے کہ وہ مامور ہو کر آئے عدل اور راستی کااجرا ہونے لگتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس رومی سلطنت سے جو مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں تھی یہ سلطنت بمراتب اَولیٰ اور افضل ہے اگرچہ اِس کا اور اُس کا قانون ملتا جلتا ہے لیکن انصاف یہی ہے کہ اس سلطنت کے قوانین کسی سے دبے ہوئے نہیں ہیں اور مقابلہ سے دیکھا جاوے تو معلوم ہوگا کہ رومی سلطنت میں وحشیانہ حصہ ضرور پایا جاوے گا یہ لیکن بزدلی تھی کہ یہودیوں کے خوف سے خدا کے پاک اور برگزیدہ بندے مسیح کو حوالات میں دیا گیا۔اس قسم کا مقدمہ مجھ پر بھی ہوا تھا۔مسیح علیہ السلام کے خلاف تو یہودیوں نے مقدمہ کیا تھا مگر اس سلطنت میں میرے خلاف جس نے مقدمہ کیا وہ معزز پادری تھا اور ڈاکٹر بھی تھا یعنی ڈاکٹر مارٹن کلارک تھا جس نے مجھ پر اقدام قتل کا مقدمہ بنایا اور اس نے شہادت پوری بہم پہنچائی۔یہاں تک کہ مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی بھی جو اس سلسلہ کا سخت دشمن ہے شہادت دینے کے واسطے عدالت میں آیا۔اور جہاں تک اُس سے ہو سکا اس نے میرے خلاف شہادت دی اور پورے طور پر مقدمہ میرے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی۔یہ مقدمہ کپتان ڈگلس