ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 68

جیسا جلیل القدر صحابی اس جوش کی حالت میں ہو اُن کا غصہ فرو نہیں ہو سکتا بجز اس کے کہ یہ آیت ان کی تسلّی کا موجب ہوتی۔اگر انہیں یہ معلوم ہوتا یا یہ یقین ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ تو زندہ ہی مر جاتے۔وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشّاق تھے اور آپ کی حیات کے سوا کسی اور کی حیات کو گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔پھر کیونکر اپنی آنکھوں کے سامنے آپ کو وفات یافتہ دیکھتے اور مسیح کو زندہ یقین کرتے۔یعنی جب حضرت ابوبکر نے خطبہ پڑھا تو اُن کا جوش فرو ہوگیا اس وقت صحابہؓ مدینہ کی گلیوں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اُتری ہے۔اُس وقت حسّان بن ثابت نے ایک مرثیہ لکھا جس میں انہوں نے کہا کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیکَ النَّاظِرٗ مَنْ شَائَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ چونکہ مذکورہ بالا آیت نے بتا دیا تھا کہ سب مر گئے اس لئے حسّان نے بھی کہہ دیا کہ اب کسی کی موت کی پروا نہیں۔یقیناً سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کسی کی زندگی صحابہؓ پر سخت شاق تھی اور وہ ان کو گوارا نہیں کر سکتے تھے۔اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ پہلا اجماع تھا جو دنیا میں ہوا اور اس میں حضرت مسیح کی وفات کا بھی کُلّی فیصلہ ہو چکا تھا۔میں بار بار اس امرمیںاس لئے زور دیتا ہوں کہ یہ دلیل بڑی ہی زبردست دلیل ہے جس سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کوئی معمولی اور چھوٹا امر نہ تھا جس کا صدمہ صحابہؓ کو نہ ہوا ہو۔ایک گاؤں کا نمبردار یا محلہ دار یا گھر کا کوئی عمدہ آدمی مر جاوے تو گھر والوں، محلہ والوں یا دیہات والوں کو صدمہ ہوتا ہے پھر وہ نبی جو کل دنیا کے لئے آیا تھا اور رحمۃ للعالمین ہو کر آیا تھا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ(الانبیاء:۱۰۸) اور پھر دوسری جگہ فرمایا قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) پھر وہ نبی جس نے صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا اور وہ کمالات دکھائے کہ جن کی نظیر نظر نہیں آتی وہ فوت ہو جاوے اور اس کے ان جان نثار متبعین پر اثر نہ پڑے جنہوں نے اس کی خاطر جانیں دے دینے