ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 67

مقابلہ میں بھی تم بڑی کشادہ پیشانی سے تسلیم کر لیتے ہو کہ آپ نے وفات پائی۔پھر میں نہیں سمجھتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر کیا پتھر پڑتا ہے کہ نیلی پیلی آنکھیں کر لیتے ہو؟ ہمیں بھی رنج نہ ہوتا کہ اگر تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی وفات کا لفظ سُن کرایسے آنسو بہاتے۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ خاتم النبیین اور سرورِ عالم کی نسبت تو تم بڑی خوشی سے موت تسلیم کر لو۔اور اُس شخص کی نسبت جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں بتاتا، زندہ یقین کرتے ہو اور اس کی نسبت موت کا لفظ منہ سے نکالا اور تمہیں غضب آجاتا ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب تک زندہ رہتے تو ہرج نہ تھا۔اس لئے کہ آپ وہ عظیم الشان ہدایت لے کر آئے تھے جس کی نظیر دنیا میں پائی نہیں جاتی۔اور آپؐ نے وہ عملی حالتیں دکھائیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ان کا نمونہ اور نظیر پیش نہیں کر سکتا۔میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی ضرورت دنیا اور مسلمانوں کو تھی اس قدر ضرورت مسیح کے وجود کی نہیںتھی۔پھر آپ کا وجود باجود وہ مبارک وجود ہے کہ جب آپ نے وفات پائی تو صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ وہ دیوانے ہوگئے۔یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے نکال لی اور کہا کہ اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مُردہ کہے گا تو میں اُس کا سر جُدا کردوںگا۔اس جوش کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو ایک خاص نور اور فراست عطا کی۔انہوں نے سب کو اکٹھا کیا اور خطبہ پڑھا۔مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ( اٰلِ عـمران:۱۴۵) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر جس قدر رسول آئے وہ سب وفات پا چکے۔اب آپ غور کریں اور سو چ کر بتائیں کہ حضرت ابوبکرصدیق نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر یہ آیت کیوں پڑھی تھی؟ اور اس سے آپ کا کیا مقصد اور منشا تھا؟ اور پھر ایسی حالت میں کہ کُل صحابہؓ موجود تھے۔میں یقیناً کہتا ہوں اور آپ انکار نہیں کر سکتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے صحابہؓ کے دل پرسخت صدمہ تھا اور اس کو بے وقت اور قبل از وقت سمجھتے تھے۔وہ پسند نہیں کر سکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سُنیں ایسی حالت اور صورت میں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ