ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 66

لینے جائز ہیں اور ان کی عورتوں کو بغیر نکاح گھر میں رکھ لینا درست ہے۔ان کو قتل کر دینا ثواب کا کام ہے وغیرہ وغیرہ۔ایک تو وہ زمانہ تھا کہ یہی مولوی شور مچاتے تھے کہ اگر ۹۹ وجوہ کفر کے ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو تب بھی کفر کا فتویٰ نہ دینا چاہیے اس کو مسلمان ہی کہو۔مگر اب کیا ہوگیا۔کیا میں اس سے بھی گیا گزرا ہوگیا؟ کیا میں اور میری جماعت اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ نہیں پڑھتی؟ کیا میں نمازیں نہیں پڑھتا یا میرے مرید نہیں پڑھتے؟ کیا ہم رمضان کے روزے نہیں رکھتے؟ اور کیا ہم اُن تمام عقائد کے پابند نہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی صورت میں تلقین کئے ہیں؟ میں سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اور میری جماعت مسلمان ہے۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر اُسی طرح ایمان لاتی ہے جس طرح پر ایک سچے مسلمان کو لانا چاہیے۔میں ایک ذرّہ بھی اسلام سے باہر قدم رکھنا ہلاکت کا موجب یقین کرتا ہوں اور میرا یہی مذہب ہے کہ جس قدر فیوض اور برکات کوئی شخص حاصل کر سکتا ہے اور جس قدر تَقَرُّب اِلَی اللہ پا سکتا ہے وہ صرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اطاعت اور کامل محبت سے پا سکتا ہے ورنہ نہیں۔آپ کے سوا اب کوئی راہ نیکی کی نہیں۔عقیدہ حیاتِ مسیح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے ہاں یہ بھی سچ ہے کہ میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ مسیح علیہ السلام اِسی جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر گئے ہوں۔اور اب تک زندہ قائم ہوں۔اس لئے کہ اِس مسئلہ کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین اور بے حرمتی ہوتی ہے۔میں ایک لحظہ کے لیے اس ہجو کو گوارا نہیں کر سکتا۔سب کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۳ سال کی عمر میں وفات پائی اور مدینہ طیّبہ میں آپ کا روضہ موجود ہے۔ہر سال وہاں ہزاروں لاکھوں حاجی بھی جاتے ہیں۔اب اگر مسیح علیہ السلام کی نسبت موت کا یقین کرنا یا موت کو ان کی طرف منسوب کرنا بے ادبی ہے تو پھر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ گستاخی اور بے ادبی کیوں یقین کرلی جاتی ہے؟ مگر تم بڑی خوشی سے کہہ دیتے ہو کہ آپ نے وفات پائی۔مولود خواں بڑے خوش الحانی سے واقعات وفات کو ذکر کرتے ہیں۔اور کفار کے