ملفوظات (جلد 8) — Page 56
ہے۔منہاج نبوت کو تمہارے سامنے رکھا ہے۔خدا تعالیٰ کے نشانات دکھلائے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کی دلیل پیش کی ہے پھر اگر تم نہیں مانتے اور ضد سے باز نہیں آتے تو عنقریب خدا تعالیٰ تم سے حساب لے گا۔صرف مرنے کے بعد نہیں بلکہ اسی دنیا میں تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میں صادق ہوں یا کاذب ہوں۔خدا نے مجھے اور نشانوںکا بھی وعدہ دیا ہے۔جن میں سے ایک طاعون ہے اور ایک زلزلہ ہے۔تھوڑا اور صبر کرو۔چند سالوں میں تم دیکھ لو گے کہ کیا ہوتا ہے۔اگر یہ عذاب تم پر نازل ہوئے تو خود ثابت ہوجائے گا ورنہ یہ ظاہر ہوگا کہ میں باطل پر ہوں۔انسان امن اور راحت کی حالت میں باتیں بناتا ہے۔میں نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ یہ وہ وقت نہیں کہ لوگ مانیں۔لیکن وقت عنقریب آنے والا ہے جب کہ خدا کے وعدے پورے ہوں گے اور لوگوں پر ظاہر ہوجائے گا کہ صادق کون ہے اور کاذب کون ہے۔اگر میں خدا کی طرف سے نہیں تو میں خود بخود تباہ ہوجاؤں گا اور تم آسودگی سے زندگی بسر کرو گے۔میں خدا کا نشان پیش کرتا ہوں ذرا دانتوں میں زبان لو کہ خدا کا عذاب آنے والا ہے مجازی گورنمنٹ کے ساتھ جو آدمی زیادہ قیل و قال کرتا ہے وہ بھی پکڑا جاتا ہے۔میں نے جو کچھ پیش کرنا تھا وہ پیش کر دیا۔تواتر پیش کر دیا۔خدا اور رسول کا کلام پیش کیا۔نشانات تائید و نصرت پیش کئے اب خدا کا وعدہ ہے کہ تکذیب کرنے والوں پر میں عذاب کی مار ماروں گا۔تھوڑے دن صبر کرو اگر خدا سچا ہے اور میں اس کی طرف سے ہوں تو عنقریب تم لوگوں کومعلوم ہوجائے گا۔۱ لیکچر لدھیانہ (جو حضور علیہ السلام نے ۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء کو ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں دیا) دلائل صداقت اوّل میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوںجس نے مجھے یہ موقع دیا کہ میں پھر اس شہر میں تبلیغ کرنے کے لئے آؤں۔میں اسی شہر میں ۱۴ برس کے بعد آیا ۱بدر جلد ۱ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۵