ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 53

میں نے جہاں تک ممکن تھا قریباً تمام شائع شدہ کتابیں لغت کی دیکھی ہیں۔جیسے قاموس، تاج العروس، صراح، صحاح جوہری، لسان العرب اور وہ کتابیں جو حال میں بیروت میں تالیف کر کے عیسائیوں نے شائع کی ہیں۔ان تمام کتابوں سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ محاورہ عرب اسی طرح پر ہے کہ جب کسی جملہ میں خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی عَلم انسان مفعول بہٖ ہو جیسا کہ تَوَفَّی اللہُ زَیْدًا تو ایسی صورت میں بجز اماتت اور قبض روح اور کوئی معنے نہیںہوتے۔اور جو شخص اس سے انکار کرے اس پر لازم ہے کہ اس کے بر خلاف لغت کی کتابوں سے کوئی نظیر مخالف پیش کرے۔(۳) میں نے بہت محنت اور کوشش سے جہاں تک میرے لیے ممکن تھا صحاحِ ستہ وغیرہ حدیث کی کتابیں غور سے دیکھی ہیں اور میں نے کسی ایک جگہ پربھی توفّی کے معنے بجز وفات دینے کے حدیث میں نہیں پائے بلکہ تین سو کے قریب ایسی جگہ پائی ہیں جہاں ہر جگہ موت دینے کے ہی معنے ہیں۔(۴) میں نے جہاں تک میرے لیے ممکن تھا عرب کے مختلف دیوان بھی دیکھے ہیں مگر نہ میں نے جاہلیت کے زمانہ کے شعراء اور نہ اسلام کے زمانے کے مستند شعراء کے کلام میں کوئی ایسا فقرہ پایا ہے کہ ایسی صورت میں جو اوپر بیان کی گئی ہے بجز وفات دینے کے کوئی اور معنے ہوں۔(۵) شاہ ولی اللہ صاحب کے فوز الکبیر میں بھی یہی لکھا ہے کہ مُتَوَفِّيْكَ مُـمِیْتُکَ۔اور میں جانتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ صاحب بڑے پایہ کے محدث اور فقیہ اور عالم فاضل تھے۔(۶) حدیث معراج جو صحیح بخاری میں موجود ہے اس سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ انبیاء میں دیکھا تھا۔پس اس جگہ دو شہادتیں ہیں۔ایک خدا تعالیٰ کی شہادت قرآن شریف میں دوسری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت لیلۃ المعراج میں۔(۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ کنز العمال و طبرانی اور کتاب مَاثَبَتَ بِالسُّنَّۃِ میں شیخ عبد الحق وغیرہ نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی عمر ایک سو پچیس برس کی تھی اور ایک روایت