ملفوظات (جلد 8) — Page 46
تقویٰ سے کام لو ضد اچھی نہیں۔دیکھو! پادری لوگ گلی اور کوچوں اور بازاروں میں یہی کہتے پھرتے ہیں کہ ہمارا یسوع زندہ ہے اور تمہارا رسول مر چکا ہے۔اس کا جواب تم ان کو کیا دے سکتے ہو؟ یہ زمانہ تو اسلام کی ترقی کا زمانہ ہے۔کسوف خسوف بھی پیشگوئی کے مطابق ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے واسطے وہ پہلو اختیار کیا ہے جس کے سامنے کوئی بول نہیں سکتا۔سوچو ۱۹۰۰ سال تک مسیح کو زندہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوا؟ یہی کہ چالیس کروڑ عیسائی ہوگئے۔اب دوسرے پہلوکو بھی چند سال کے واسطے آزماؤ اور دیکھو کہ اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔کسی عیسائی سے پوچھو کہ اگر یسوع مسیح کی وفات کو تسلیم کر لیا جائے تو کیا پھر بھی کوئی عیسائی دنیا میں رہ سکتا ہے۔تمہارا یہ طیش اور یہ غضب مجھ پر کیوں ہے؟ کیا اسی واسطے کہ میں اسلام کی فتح چاہتا ہوں۔یاد رکھو کہ تمہاری مخالفت میرا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی۔میں اکیلا تھا خدا کے وعدے کے موافق کئی لاکھ آدمی میرے ساتھ ہوگئے اور دن بدن ترقی ہو رہی ہے۔لاہور میں بشپ صاحب نے یہی سوال مسلمانوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ہزاروں آدمی جمع تھے اور بڑا بھاری جلسہ تھا۔یسوع کی فضیلت اس نے اس طرح بیان کی کہ وہ زندہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے ہیں۔تب کوئی مسلمان اس کا جواب نہ دے سکا۔لیکن ہماری جماعت میں سے مفتی محمد صادق صاحب اُٹھے جو اس جگہ اس وقت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ قرآن، حدیث، انجیل سب کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ثابت کر دیا۔تب بشپ کوئی جواب نہ دے سکا اور ہماری جماعت کے ساتھ مخاطب ہونے سے اعراض کیا۔اسلام کبھی تلوار کے ساتھ نہیں پھیلایا گیا ان مولویوں پر افسوس ہے کہ میری تذلیل کی خاطریہ لوگ اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور اسلام کی بے عزتی کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ مہدی آئے گا تو وہ تلوار کے ساتھ دین پھیلائے گا۔اے نادانو! کیا تم عیسائیوں کے اعتراض کی مدد کرتے ہو کہ دین اسلام تلوار کے ساتھ پھیلا ہے۔یاد رکھو کہ اسلام کبھی تلوار کے ساتھ نہیں پھیلایا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دین جبراً