ملفوظات (جلد 8) — Page 37
لڑکے پڑھاتا ہے۔) حضرت۔میں ایسے الہام نہیں مان سکتا جس کے ساتھ تائیدات سماوی کا نشان نہ ہو ایسے الہام کے مدعی تو ہر نبی کے زمانہ میں گذرے ہیں۔اگر آپ کے پاس کوئی نشان ہے تو دکھلاؤ۔اتنے میں حضرت مولوی محمد احسن صاحب نے لغت کی ایک کتاب مختار الصحاح نکالی اور اس مولوی کو دکھلایا کہ توفّی کے معنے مارنے کے لکھے ہیں۔مولوی صاحب۔میں لغت نہیں مانتا۔اچھا مان لیا۔اگر عیسیٰ مرگیا ہے تو اس کی لاش دکھلاؤ۔حضرت۔جب مرجانا ثابت ہے تو کافی ہے۔لاشیں حضرت ابراہیم اور موسیٰ کی کہاں ہیں؟ مولوی۔دجال کانا کہاں ہے؟ حضرت۔اگر اس طرح تم لفظی معنے لو گے تو بہت مشکل پڑے گی۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہوگا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ جتنے نابینے ہیں وہ بہرحال سب کے سب جہنم میں جائیں گے اگرچہ حافظ قرآن اور مسلمان ہی ہوں۔اُمتی کی حقیقت فرمایا۔آنے والے کے متعلق تو یہ لکھا ہے کہ وہ امتی ہوگا۔امتی تو وہ ہے جو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی کے ذریعہ سے نور حاصل کرتا ہے۔لیکن وہ جو پہلے ہی نور اور بصیرت پاکر نبوت کے درجہ تک پہنچ چکا ہے وہ اب امتی کس طرح سے بنے گا؟ کیا پہلے تمام کمالات حاصل کردہ سے وہ بے نصیب کر دیا جاوے گا؟ ہاں ہم اُمتی ہیں جن کو سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملا ہے اور تمام معرفت وہیں سے حاصل ہوئی ہے۔اتنے میں وہ مولوی صاحب تو گھبرا کر اٹھ گئے اور ان کے ساتھی گالیاں دیتے گئے اور ایک اور طالب علم آگے بڑھا۔نبی کی تعریف طالب علم۔آپ کا مرتبہ کیا ہے اس کی تعبیر نبوت سے ہوگی یا کسی اورلفظ سے؟ حضرت۔جس کے ساتھ خدا تعالیٰ مکالمہ اور مخاطبہ کرتا ہے وہ نبی ہے۔نبی کے