ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 33

صرف یہ ہے کہ بموجب حدیث کے انسان کو چاہیے کہ مفید بات جہاں سے ملے وہیں سے لے لے۔ہندی، جاپانی، یونانی، انگریزی ہر طِبّ سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے اور اس شعر کا مصداق اپنے آپ کو بنانا چاہیے۔؎ تمتع ز ہر گوشہ یافتم ز ہر خرمنے خوشہ یافتم تب ہی انسان کامل طبیب بنتا ہے۔طبیبوں نے تو عورتوں سے بھی نسخے حاصل کئے ہیں لَیْسَ الْـحَکِیْمُ اِلَّا ذُوْ تَـجْرِبَۃٍ۔لَیْسَ الْـحَلِیْمُ اِلَّا ذُوْ عُسْـرَۃٍ۔حکیم تجربہ سے بنتا ہے اور حلیم تکالیف اٹھا کر حلم دکھانے سے بنتا ہے۔اور یوں تو تجربوں کے بعد انسان رہ جاتا ہے کیونکہ قضا ؤ قدر سب کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالات تھے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ(الانعام:۹۱) ان کی ہدایت کی پیروی کر یعنی تمام گذشتہ انبیاء کےکمالات متفرقہ کو اپنے اندر جمع کر لے۔یہ آیت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی فضیلت کا اظہار کرتی ہے۔تمام گذشتہ نبیوں اور ولیوںمیں جس قدر خوبیاں اور صفات اور کمال تھے وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے تھے۔سب کی ہدایتوں کا اقتدا کر کے آپ جامع تمام کمالات کے ہوگئے۔مگر جامع بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان متکبر نہ ہو۔جو سمجھتا ہے کہ میں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔خاکساری سے زندگی بسر کرنی چاہیے۔جہاں انسان کوئی فائدہ کی بات دیکھے چاہیے کہ اسی جگہ سے فائدہ حاصل کر لے۔ڈاکٹروں کو بھی مناسب نہیں کہ پرانی طِبّ کو حقارت سے دیکھیں۔بعض باتیں ان میں بہت مفید ہیں۔میں نے بعض متن کتب طِبّ کے بیس بیس جزو کے حفظ کئے تھے۔ہزار سے زیادہ کتاب طِبّ کی ہمارے کتب خانہ میں موجود تھی۔جن میں سے بعض کتابیں بڑی بڑی قیمتیں دے کر خرید کی گئی تھیں۔مگر یہ علم ظنی ہوتا ہے۔لاف مارنے اور دعویٰ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔