ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 29

تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ بعض لوگ ایسے کچے اور کمزور ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غرض بھی دنیا ہی ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد ان کی دنیا داری کے معاملات میں ذرا سا فرق آجاوے تو پھر پیچھے قدم رکھتےہیں۔یاد رکھو کہ یہ جماعت اس بات کے واسطے نہیں کہ دولت اور دنیا داری ترقی کرے اور زندگی آرام سے گذرے۔ایسے شخص سے تو خدا بیزار ہے۔چاہیے کہ صحابہؓ کی زندگی کو دیکھو وہ زندگی سے پیار نہ کرتے تھے۔ہر وقت مرنے کے لیے تیار تھے۔بیعت کے معنے ہیں اپنی جان کو بیچ دینا۔جب انسان زندگی کو وقف کر چکا تو پھر دنیا کے ذکر کو درمیان میں کیوں لاتا ہے۔ایسا آدمی تو صرف رسمی بیعت کرتا ہے۔وہ تو کَل بھی گیا اور آج بھی گیا۔یہاں تو صرف ایسا شخص رہ سکتا ہے جو ایمان کو درست کرنا چاہے۔انسان کو چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے۔وہ تو ایسے تھے کہ بعض مر چکے تھے اور بعض مرنے کےلیے طیار بیٹھے تھے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کے سوائے بات نہیں بن سکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ کنارہ پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں تاکہ ابتلا دیکھ کر بھاگ جائیں وہ فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ کوئی ذرا سی تکلیف ہو تو لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتے ہیں اور آرام کے وقت خدا کو بھول جاتےہیں۔کیا لوگ چاہتے ہیں کہ امتحان میں سے گذرنے کے سوائے ہی خدا خوش ہوجائے۔خدا رحیم و کریم ہے۔مگر سچا مومن وہ ہے جو دنیا کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر دے۔خدا ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ابتدا میں مومن کے واسطے دنیا جہنم کا نمونہ ہوجاتا ہے۔طرح طرح کے مصائب پیش آتے ہیں۔اور ڈراؤنی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔تب وہ صبر کرتے ہیں اور خدا ان کی حفاظت کرتا ہے لیکن ؎ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریزد ہر کہ بیرونی بود جو خدا سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنت ہوتے ہیں۔خدا کی رضا کے ساتھ جو متفق ہو جاتا ہے خدا اس کو محفوظ رکھتا ہے اور اس کو حیات طیبہ حاصل ہوتی ہے اس کی سب مرادیں پوری کی جاتی