ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 24

مقامات دیکھے۔فرمایا۔ہم تو حضرت بختیار کاکی۔نظام الدین صاحب اولیاء۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب وغیرہ اصحاب کی قبروں پر جانا چاہتے ہیں۔دہلی کے یہ لوگ جو سطح زمین کے اوپر ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں اورنہ ملاقات کے قابل ہیں۔اس لیے جو اہل دل لوگ ان میں سے گذر چکے ہیں اور زمین کے اندر مدفون ہیں ان سے ہی ہم ملاقات کر لیں تاکہ بِدُوں ملاقات تو واپس نہ جائیں۔میں ان بزرگوں کی یہ کرامت سمجھتا ہوں کہ انہوںنے قسی القلب لوگوں کے درمیان بسر کی۔اس شہر میں ہمارے حصہ میں ابھی وہ قبولیت نہیں آئی جو ان لوگوں کو نصیب ہوئی۔؎ چشم باز و گوش باز و ایں ذکا خیرہ ام از چشم بندی خدا مصلح کی ضرورت اسلام پر یہ کیسا مصیبت کا زمانہ ہے۔اندرونی مصائب بھی بے انتہا ہیں۔اور بیرونی بھی بے حد ہیں۔پھر یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس وقت کسی مصلح کی ضرورت نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں پھر ہم کو کسی مصلح کی کیا ضرورت ہے مگر نہیں سمجھتے کہ جب تک خدا کی رحمت نہ ہو وہ رقت اور درد پیدا نہیں ہو سکتا جو انسان کے دل کو صاف کرتا ہے۔چاہیے کہ بہت دعائیں کریں۔صرف بحث کرنے والا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام پر کس طرح کے مصائب نازل ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام کو گویا خدا نے فراموش کر دیا ہے۔دہلی کے لوگ ایسے معلوم ہوتے ہیںکہ لڑنے کو آئے ہیں۔حق طلبی کا انہیں خیال نہیں۔حلق کے نیچے بات تب اترتی ہے جب حلق صاف ہو۔دوائی کا بھی یہی حال ہے کہ جب تک حلق صاف نہ ہو اور معدہ بھی صاف نہ ہو دوائی کا اثر نہیں ہو سکتا۔دوائی قے ہو جاتی ہے یا ہضم نہیں ہوتی۔احمدی نام کیوں رکھا گیا ہے ایک مولوی صاحب آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ خدا نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔آپ نے اپنے فرقہ کا نام احمدی کیوں رکھا