ملفوظات (جلد 8) — Page 25
ہے؟ یہ بات هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ(الـحج:۷۹) کے برخلاف ہے۔اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا۔اسلام بہت پاک نام ہے اور قرآن شریف میں یہی نام آیا ہے۔لیکن جیسا کہ حدیث شریف میں آچکا ہے اسلام کے ۷۳ فرقے ہوگئے ہیں اور ہر ایک فرقہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔انہی میں ایک رافضیوں کا ایسا فرقہ ہے جو سوائے دو تین آدمیوں کے تمام صحابہ کو سبّ و شتم کرتے ہیں نبی کریم کے ازواجِ مطہرات کو گالیاں دیتے ہیں اولیاء اللہ کو بُرا کہتے ہیں پھر بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔خارجی حضرت علی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو بُرا کہتے ہیں اور پھر بھی مسلمان نام رکھاتے ہیں۔بلادِ شام میں ایک فرقہ یزیدیہ ہے۔جو امام حسین پر تبرّہ بازی کرتےہیں اور مسلمان بنے پھرتے ہیں۔اسی مصیبت کو دیکھ کر سلف صالحین نے اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے تمیز کرنے کے واسطے اپنے نام شافعی، حنبلی وغیرہ تجویز کئے۔آج کل نیچریوں کا ایک ایسا فرقہ نکلا ہے جو جنت، دوزخ ،ملائک، وحی سب باتوں کا منکر ہے۔یہاں تک کہ سید احمد خاں کا خیال تھا کہ قرآن مجید بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیالات کا نتیجہ ہے اور عیسائیوں سے سن کر یہ قصے لکھ دیئے ہیں۔غرض ان تمام فرقوں سے اپنے آپ کو تمیز کرنے کے واسطے اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا گیا۔حضرت یہ تقریر کر رہے تھے کہ اس مولوی نے پھر سوال کیا کہ قرآن شریف میں تو حکم ہے کہ لَاتَفَرَّقُوْا ( اٰلِ عـمران:۱۰۴) اور آپ نے تو تفرقہ ڈال دیا۔حضرت نے فرمایا۔ہم تو تفرقہ نہیں ڈالتے بلکہ ہم تفرقہ دور کرنے کے واسطے آئے ہیں۔اگر احمدی نام رکھنے میں ہتک ہے تو پھر شافعی حنبلی کہلانے میں بھی ہتک ہے۔مگر یہ نام ان اکابر کے رکھے ہوئے ہیں جن کو آپ بھی صلحاء مانتے ہیں۔وہ شخص بد بخت ہوگا جو ایسے لوگوں پر اعتراض کرے اور ان کو بُرا کہے صرف امتیاز کےلیے ان لوگوں نے اپنے یہ نام رکھے تھے۔ہمارا کارو بار خدا کی طرف سے ہے اور ہم پر اعتراض کرنے والا خدا پر اعتراض کرتا ہے۔ہم مسلمان ہیں اور احمدی ایک امتیازی نام ہے۔