ملفوظات (جلد 8) — Page 319
ہاتھ بھر آتا ہے اور اگر کوئی معمولی رفتار سے اس کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔غرض مومن کبھی ان باتوں کو اپنی زندگی کا مقصد تجویز نہیں کرتا کہ اسے خواب آنے لگیں یا کشوف ہوں یا الہامات ہوں۔وہ تو ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اور اس کے ساتھ موافقت تامہ ایسی ہو کہ یہ خدا سے راضی ہوجاوے۔اللہ تعالیٰ کی مقادیر اور قضا سے راضی ہو جانا بھی سہل امر نہیں۔یہ ایک مشکل اور تنگ راہ ہے۔اس سے ہر کوئی گذر نہیں سکتا۔پس جب انسان ان اغراض کو مدّ نظر رکھے گا کہ خدا تعالیٰ اس سے راضی ہوجاوے اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو جاوے اور متقی اور مخلص مومن ہو کر اعمال صالحہ بجا لاوے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جو معاملات ہوا کرتے ہیں اور جو سنت اللہ اس کی جاری ہے وہ اس کے ساتھ بھی ضرور ہی ہوگی۔ا س کی خواہش کی حاجت ہی کیا۔خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ( حٰمٓ السجدۃ:۳۱) یعنی جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر انہوں نے سچی استقامت دکھائی یعنی ہر قسم کے مصائب اور مشکلات عسر یسر میں انہوں نے قدم آگے ہی بڑھایا اور ہر قسم کے امتحانوں میں وہ پاس ہوگئے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے جو ان کو خوش خبریاں دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ولی ہیں۔اس حیات دنیا میں تمہیں کوئی غم اور حزن نہ ہوگا۔یا دوسری جگہ فرمایا اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ(البقرۃ:۲۵۸) یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی ہوتا ہے اور انہیں ہرقسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جن کو اس بات کا ٹھرک ہوتا ہے کہ انہیں کشف ہو اور بعض کشف قبور تسخیر وغیرہ بیہودہ باتوں کی طرف توجہ کرتے ہیں مگر اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ یہ چیزیں کچھ بھی نہیں۔اصل بات یہی ہے کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی خالص محبت سے اس طرح پر لبریز ہوجاوے جیسے کہ عطر کا شیشہ بھرا ہوا ہو اور خدا تعالیٰ اس سے خوش ہو جاوے۔یہ مراد اگر مل جاوے