ملفوظات (جلد 8) — Page 304
عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاتھ میں پہنچ چکیں تو اس وقت نمودار ہوئی۔اس پر مخالف عیسائی بھی آج تک حیران ہیں کہ یہ کیا بات تھی کہ اتنی صدیوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ایسی صراحت کے ساتھ پوری ہوگئی۔مولوی عبد اللہ غزنوی مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کا ذکر تھا۔فرمایا کہ وہ اچھے آدمی تھے۔مرد صالح تھے۔خدا نے ان کو ہمارے دعویٰ کے زمانہ سے پہلے ہی اٹھا لیا تاکہ وہ کسی ابتلا میں نہ پڑیں۔میں نے ان کو خواب میں بھی دیکھا تھا۔انہوں نے میری تصدیق کی اور کہا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں ایسے آدمی کے پیدا ہونے کا منتظر تھا۔گذشتہ اکابر قابل مؤاخذہ نہیں ہوں گے فرمایا۔گذشتہ بزرگ جو گذر چکے ہیں اگر انہوں نے مسئلہ وفات مسیح کو نہ سمجھا ہو اور اس میں غلطی کھائی ہو تو اس سبب سے ان پر مؤاخذہ نہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ بات کھول کر بیان نہیں کی گئی تھی اور یہ مسائل ان کے راہ میں نہ تھے۔انہوں نے اپنی طرف سے تقویٰ و طہارت میں حتی الوسع کوشش کی۔ان لوگوں کی مثال ان یہودی فقہاء کے ساتھ دی جا سکتی ہے جو کہ بنی اسرائیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گذر چکے تھے اور ان کا عقیدہ پختہ تھا کہ آخری نبی جو آنے والا ہے وہ حضرت اسحٰق کی اولاد میں سے ہوگا اور اسرائیلی ہوگا وہ مر گئے اور بہشت میں گئے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ مسئلہ روشن ہوگیا کہ آنے والا آخری نبی بنی اسمٰعیل میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تب بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیئے گئے اور لعنتی ہوئے اور آج تک ذلیل اور خوار اور در بدر مصیبت زدہ ہو کر پھر رہے ہیں۔سلطنتِ عثمانیہ سلطان روم کا کچھ ذکرتھا۔فرمایا۔ان لوگوں میں روحانیت نہیں معلوم ہوتی ورنہ وہ یورپ کے محتاج نہ