ملفوظات (جلد 8) — Page 299
حضرت نے فرمایا۔میرا مذہب یہ ہے کہ کوئی بیماری لاعلاج نہیں۔ہر ایک بیماری کا علاج ہو سکتا ہے جس مرض کو طبیب لاعلاج کہتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ طبیب اس کے علاج سے آگاہ نہیں ہے۔ہمارے تجربہ میں یہ بات آچکی ہے کہ بہت سی بیماریوں کو اطباء اور ڈاکٹروں نے لاعلاج بیان کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے شفا پانے کے واسطے بیمار کے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکال دی بعض بیمار بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔یہ غلطی ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اس کے ہاتھ میں سب شِفا ہے۔سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب مدراس والے ایک ضعیف آدمی ہیں۔ان کو مرض ذیابیطس بھی ہے اور ساتھ ہی کاربنکل نہایت خوفناک شکل میں نمودار ہوا اور پھر عمر بھی بڑھاپے کی ہے۔ڈاکٹروں نے نہایت گہرا چیرا دیا اور ان کی حالت نہایت خطرناک ہوگئی یہاں تک کہ ان کی نسبت خطرہ کے اظہار کے خطوط آنے لگے۔تب میں نے ان کے واسطے بہت دعا کی تو ایک روز اچانک ظہر کے وقت الہام ہوا۔’’آثار زندگی‘‘۔اس الہام کے بعد تھوڑی دیر میں مدراس سے تار آیا کہ اب سیٹھ صاحب موصوف کی حالت رو بصحت ہے۔بیمار کو چاہیے کہ توبہ استغفار میں مصروف ہو۔انسان صحت کی حالت میں کئی قسم کی غلطیاں کرتا ہے۔کچھ گناہ حقوق اللہ کے متعلق ہوتے ہیں اور کچھ حقوق عباد کے متعلق ہوتے ہیں۔ہر دو قسم کی غلطیوں کی معافی مانگنی چاہیے اور دنیا میں جس شخص کو نقصان بے جا پہنچایا ہو اس کو راضی کرنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے حضور میں سچی توبہ کرنی چاہیے توبہ سے یہ مطلب نہیں کہ انسان جنتر منتر کی طرح کچھ الفاظ منہ سے بولتا رہے بلکہ سچے دل سے اقرار ہونا چاہیے کہ میں آئندہ یہ گناہ نہ کروں گا اور اس پر استقلال کے ساتھ قائم رہنے کی کوشش کرنی چاہیے تو خدا تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔وہ اپنے بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔اور وہ ستار ہے۔بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے۔تمہیں ضرورت نہیںکہ مخلوق کے سامنے اپنے گناہوں کا اظہار کرو۔ہاں خدا تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔۱ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۴۰ مورخہ ۴؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴