ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 286

اس لڑکے کی ٹانگ کو درست کر دے ورنہ تو نے اس قصاب کے دل میں درد کیوں پیدا کر دیا۔میرا مذہب یہ ہے کہ کیسے ہی مشکلات مالی یا جانی انسان پر پڑیں۔ان سب کا آخری علاج دعا ہے خدا تعالیٰ ہر شے کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور کر سکتا ہے اور ہر شے پر اس کا قبضہ ہے۔انسان کسی حاکم یا افسر کے ساتھ اپنا معاملہ صاف کرتا ہے اور اس کو راضی کرتا ہے تو وہ اسے بہت سے فائدہ پہنچا دیتا ہے۔کیا خدا تعالیٰ جو حقیقی حاکم اور مالک ہے اس کو نفع نہیں دے سکتا؟ مگر دعا کا معاملہ ایسا نہیں کہ انسان دور سے گولی چلادے اور چلا جائے بلکہ جس شخص سے دعا کرانی چاہیے اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا چاہیے۔دیکھو! بازار میں آپ کو ایک شخص اتفاقیہ طور پر مل جاوے اور آپ اس کو پکڑ لو اور کہو کہ تو میرا دوست بن جا تو وہ کس طرح دوست بن سکتا ہے دوستی کے واسطے تعلقات کا ہونا ضروری ہے اور وہ رفتہ رفتہ ہو سکتے ہیں۔ہم تو چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ تمام بنی نوع کے واسطے دل میں سچا درد پیدا ہو جاوے مگر یہ امر اپنے ہاتھ میں نہیں، نہ اپنے واسطے، نہ عزیز و اقارب کے واسطے، نہ بیوی بچے کے واسطے۔ایسے درد کا پیدا ہونا محض خدا کے فضل پر منحصر ہے۔لیکن تعلقات کا ہونا بہت ضروری ہے۔کہتے ہیں کہ کوئی شخص شیخ نظام الدین صاحب ولی اللہ کے پاس اپنے کسی ذاتی مطلب کے لیے دعا کرانے کے واسطے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے واسطے دودھ چاول لےآ۔اس شخص کے دل میں خیال آیا کہ عجیب ولی ہے۔میں اس کے پاس اپنا مطلب لے کر آیا ہوں تو اس نے میرے آگے اپنا ایک مطلب پیش کر دیا ہے۔مگر وہ چلا گیا اور دودھ چاول پکا کر لے آیا۔جب وہ کھا چکے تو انہوں نے اس کے واسطے دعا کی اور اس کی مشکل حل ہوگئی۔تب نظام الدین صاحب نے اس کو بتلایاکہ میں نے تجھ سے دودھ چاول اس واسطے مانگے تھے کہ جب تو دعا کرانے کے واسطے آیا تھا تو میرے واسطے ایک بالکل اجنبی آدمی تھا اور میرے دل میں تیرے واسطے کوئی ہمدردی کا ذریعہ نہ تھا۔اس واسطے تیرے ساتھ ایک تعلق محبت پیدا کرنے کے واسطے میں نے یہ بات سوچی تھی۔ایسا ہی توریت میں حضرت اسحٰق کا قصہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ جا تو میرے واسطے