ملفوظات (جلد 8) — Page 283
(۸) ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کو لڑکی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سرا سر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکام شریعت کے بالکل برخلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندےہیں۔رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہیے کہ جس سے نکاح کیاجاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجبِ فتنہ ہو۔اور یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات:۱۴) یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیزگار ہے۔(۹) ہماری قوم میں ایک یہ بھی بد رسم ہے کہ شادیوں میں صدہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔سو یادرکھنا چاہیے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا یہ دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں۔اور آتش بازی چلانا اور رنڈی بھڑوؤں ڈوم ڈھاریوں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ناحق روپیہ ضائع جاتا اور گناہ سر پر چڑھتا ہے۔سو اس کے علاوہ شرع شریف میں تو صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔(۱۰) ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی میں بہت سستی کی جاتی ہے بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق ہیں اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے مگر وہ زکوٰۃ نہیں دیتیں۔بعض عورتیں نماز روزہ کے ادا کرنے میں بہت کوتاہی کرتی ہیں۔بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجا لاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا۔بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط لگا دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں۔ہم صرف خالص اللہ کے لیے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آؤ خدا سے ڈرو ورنہ مرنے کے بعد ذلّت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضبِ الٰہی میں مبتلا ہو جاؤ گے جس کی انتہا نہیں۔والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ۔خاکسارمیرزا غلام احمد از قادیان۱