ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 277

ہے اور اپنے اندر کوئی گناہ نہ دیکھتا تو اس کے دل میں تکبّر پیدا ہوتا جو تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور شیطان کا گناہ ہے۔شیطان نے گھمنڈ کیا کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اسی واسطے وہ شیطان بن گیا۔گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے وہ نفس کو توڑنے کے واسطے ہے۔جب انسان سے گناہ ہوتا ہے تو وہ اپنی بدی کا اقرار کرتا ہے اور اپنے عجز کو یقین کر کے خدا تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے۔جس طرح مکھی کے دو پَر ہیں کہ ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں تریاق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر تمہارے کھانے پینے کی چیز میں مکھی پڑے تو وہ اپنا صرف ایک پَر اس کے اندر ڈبوتی ہے جس میں زہر ہے پر تم اس کو نکالنے سے پہلے اس کا دوسرا پَر بھی ڈبو لو کہ وہ اس کے بالمقابل تریاق ہے۔یہ مثال انسان کے گناہ اور توبہ کی ہے۔اگر گناہ صادر ہوجاوے تو توبہ کرو کہ وہ اس کے واسطے تریاق ہے اور گناہ کے زہر کو دور کر دیتی ہے۔عاجزی اور تضرع سے خدا تعالیٰ کے حضور میں جھکو تاکہ تم پر رحم کیا جاوے۔اگر گناہ نہ ہو تا تو ترقی بھی نہ ہوتی۔جو شخص جانتا ہے کہ میں نے گناہ کیا ہے اور اپنے آپ کو ملزم دیکھتا ہے وہ خدا کی طرف جھکتا ہے تب اس پر رحم کیا جاتا ہے اور وہ ترقی پکڑتا ہے۔لکھا ہے۔اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ۔گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔لیکن توبہ سچےدل کے ساتھ ہونی چاہیے اورنیت صادق کے ساتھ چاہیےکہ انسان پھر کبھی اس گناہ کا مرتکب نہ ہوگا۔گو بعد میں بہ سبب کمزوری کے ہوجاوے لیکن توبہ کرنے کے وقت اپنی طرف سے یہ پختہ ارادہ اور سچی نیت رکھتا ہو کہ آئندہ یہ گناہ نہ کرے گا۔نیت میں کسی قسم کا فساد نہ ہو بلکہ پختہ ارادہ ہو کہ قبر میں داخل ہونے تک اس بدی کے قریب نہ آئے گا۔تب وہ توبہ قبول ہوجاتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان میں ڈ التا ہے تاکہ ان کو انعام دیوے۔انعام حاصل کرنے کے واسطے امتحانوں کا پاس کرنا ضروری ہے۔نماز کے اندر دعا فرمایا۔نماز کے اندر ہی اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔سجدہ میں، بیٹھ کر، رکوع میں، کھڑے ہو کر ہرمقام پر اللہ تعالیٰ کے حضورمیں دعا ئیں کرو۔بیشک پنجابی زبان میں دعائیں کرو۔جن لوگوں کی زبان عربی نہیں اور عربی سمجھ نہیں