ملفوظات (جلد 8) — Page 276
خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق بدل نہیں ڈالے۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ صرف ایک خشک لکڑی کی طرح ہیں جس کے ساتھ کوئی پھل نہیں۔وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا کو پہچانا ہی نہیں۔اگر پہچانتے تو ان پر ضرور برکات نازل ہوتے مگر اس راہ میں بہت مشکلات ہیں اور یہ بڑی قوت والوں کا کام ہے اور خدا کے اختیار میں ہے جس کو چاہے قوت عطا فرماوے اگر انسان تلاش میں لگا رہے تو ہوسکتا ہے کہ کسی وقت اس کو قوت عطا ہوجائے۔استقامت شرط ہے ہمت کے ساتھ خدا کو تلاش کرو تو اسے پا لو گے۔۱ بلا تاریخ۲ گناہ اور ان کی بخشش ایک شخص نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ دنیا میں لوگ بہت گنہگار ہوں گے مگر میرے جیسا گنہگار تو کوئی نہ ہوگا۔میں نے بڑے بڑے سخت گناہ کئے ہیں۔میری بخشش کس طرح ہوگی؟ حضرت نے فرمایا۔دیکھو! خدا جیسا غفور الرحیم کوئی نہیں۔اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھو کہ وہ تمام گناہوں کو بخش سکتا ہے اور بخش دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دنیا بھر میں کوئی گنہگار نہ رہے تو میں ایک اور اُمت پیدا کروں گا جو گناہ کرے اور میں اس کے گناہ بخش دوں۔اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام غفور ہے اور ایک رحیم۔یاد رکھو کہ گناہ ایک زہر ہے اور ہلاکت ہے۔مگر توبہ اور استغفار ایک تریاق ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ(البقرۃ:۲۲۳) اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پیار کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاک ہوجاویں۔خدا تعالیٰ نے ہر ایک شے میں ایک حکمت رکھی ہے۔اگر آدم گناہ کر کے توبہ نہ کرتا اور خدا کی طرف نہ جھکتا تو صفی اللہ کا لقب کہاں سے پاتا؟ اگر کوئی انسان ایسا اپنے آپ کو دیکھتا کہ جیسا ماں کے پیٹ سے نکلا ۱ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۹ ۲ قیاس ہے کہ غالباً یہ جولائی ۱۹۰۶ء کے دوسرے ہفتہ کی ڈائری ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔(مرتّب)