ملفوظات (جلد 8) — Page 17
پھر میاں عبد الحق صاحب نے سوال کیا کہ میں تشفّی کے واسطے ایک بات پوچھتا ہوں۔حضرت نے اجازت دی۔عبد الحق۔کیا آپ اس مسیح اور مہدی کو یاد دلانے والے ہیں جو کہ آنے والا ہے یا کہ آپ خود مسیح اور مہدی ہیں؟ حضرت۔میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ قرآن اور حدیث کے مطابق اور اس الہام کے مطابق کہتا ہوں جو خدا نے مجھے کہا۔جو آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں جس کے کان ہوں وہ سنے اور جس کی آنکھ ہو وہ دیکھے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوگئے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیت کی گواہی دی۔دونو باتیں ہوتی ہیں قول اور فعل۔یہاں اللہ تعالیٰ کا قول اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے۔شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو دیگر گذشتہ انبیاء کے درمیان دیکھا۔ان دو شہادتوں کے بعد تم اور کیا چاہتے ہو؟ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے صدہا نشانات سے تائید کی۔جو طالب حق ہو اور خوف خدا رکھتا ہو اس کے سمجھنے کے واسطے کافی سامان جمع ہوگیا ہے۔ایک شخص پہلی پیشگوئی کے مطابق قال اللہ اور قال الرسول کے مطابق عین ضرورت کے وقت دعویٰ کرتا ہے۔یہ وہ وقت ہے کہ عیسائیت اسلام کو کھا رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے جو بات پیش کی ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور بات نہیں ہوسکتی۔انیس سو سال سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ خدا ہے اور معبود ہے اور چالیس کروڑ عیسائی اس وقت موجود ہے۔اس پر پھر مسلمانوںکی طرف سے ان کی تائید کی جاتی ہے کہ بے شک عیسیٰ اب تک زندہ ہے نہ کھانے کا محتاج نہ پینے کا محتاج۔سب نبی مر گئے پر وہ زندہ آسمان پر بیٹھا ہے۔اب آپ ہی بتلائیں کہ اس سے عیسائیوں پر کیا اثر ہوگا۔عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح ہتھیار عبد الحق۔عیسائیوں پر تو کوئی اثر ہو نہیں سکتا جب تک کہ شمشیر نہ ہو۔حضرت۔یہ بات غلط ہے۔تلوار کی اب ضرورت نہیں ہے اور نہ تلوار کا اب زمانہ ہے۔ابتدا میں بھی تلوار ظالموں کے حملہ کے روکنے کے واسطے اٹھائی گئی تھی ورنہ اسلام کےمذہب میں جبر نہیں۔تلوار کا