ملفوظات (جلد 8) — Page 16
اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا کے حکم سے گرا دی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔آثار قدیمہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر آپ نے قلعہ نہیں دیکھا تو دیکھ لیں۔ع آثار پدید است صنادید عجم را اَجل میں تاخیر نہیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا ذکر تھا۔فرمایا۔خدا نے دعا کو قبول کر کے سرطان سے شفا دے دی۔مگر جب کسی کی اَجل آجاتی ہے تو پھر رک نہیں سکتی اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ دعا سے عمر بڑھ جاتی ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اَجل کے آ جانے سے پیشتر قبل از وقت جو دعا کی جاوے وہ کام آتی ہے ورنہ جان کندن کے وقت کون دعا کر سکتا ہے؟ ایسی سخت بیماری میں مولوی صاحب مرحوم کا اکیاون دن تک زندہ رہنا بھی استجابت دعا کا ہی نتیجہ تھا۔یہ تاخیر بھی تعجب انگیز ہے۔ہم بہت دعا کرتے تھے کہ آدمی اچھا ہے زندہ ہی رہے تب خدا کی طرف سے یہ الہام ہوا تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔یعنی کیا اگلے عالَم کے تم قائل نہیں ہو جو اس دنیا کی زندگی کے واسطے اتنا زور دیتے ہو۔(بعد ظہر) جو آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں ایک شخص عبد الحق نام جو اپنے آپ کو صوفی ابوالخیر صاحب کے مرید بتلاتے تھے چند طالب علموں کے ساتھ آئے۔اور بھی دہلی والے آ موجود ہوئے۔حضرت مسیحؑ نے پوچھا کہ کیا تم سب دہلی کے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔