ملفوظات (جلد 8) — Page 253
طرف سے ایسا الہام شائع کریں کہ یہ شخص ہلاک ہوجائے گا۔ایک تازہ مثال ایسے ملہم کی تو چراغ دین کے وجودمیں قائم ہوچکی ہے اور بھی جو چاہے آزمائش کر لے۔ہم تو خدا تعالیٰ کی ہزار حلف کھا کر کہتے ہیں کہ یہ جو ہم پر نازل ہوا یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جیسا کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔یہ ایک خدا کا نشان ہے اور فیصلہ کی آسان راہ ہے جس کا جی چاہے اختیار کر لے۔۱ ۳۰؍مئی ۱۹۰۶ء مسیح ہمیشہ فتح پائے گا فرمایا۔ہر ایک نبی جو دنیا میں آتا ہے اس پرا للہ تعالیٰ کے کسی نہ کسی اسم کا پَرتوہ ہوتا ہے۔مسیح موعود پر اللہ تعالیٰ کے غالب ہونے والے نام کا پَرتوہ ہے۔صوفیوں نے بھی لکھا ہے کہ آنے والا مسیح ہمیشہ فتح پائے گا اور کبھی مغلوب نہ ہوگا۔دشمن ہزار اس کی مخالفت کریں مگر وہ ایسا وجود ہے کہ اس کو ہمیشہ فتح ہی ہوگی۔شکست تو اس نے کھانی ہی نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے بغیر نجات نہیں ڈاکٹر عبدالحکیم کا ذکر تھا۔فرمایا۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات ہوسکتی ہے وہ جھوٹھا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو بات ہم کو سمجھائی ہے وہ بالکل اس کے برخلاف ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰلِ عـمران:۳۲) اے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔بغیرمتابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ان کی کبھی خیر نہیں۔اس کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ تفسیر لکھنے بیٹھتا کیونکہ نہ تو ظاہری علوم سے اس کو کچھ حصہ تھا اور نہ باطنی طہارت اور پاکیزگی کو وہ حاصل کر چکا تھا۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۴