ملفوظات (جلد 8) — Page 254
اسی واسطے میں نے کبھی اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا کیونکہ اس میں تضیعِ اوقات ہے۔ایسے آدمی کی کتاب کو پڑھنا صرف اپنے وقت کو خراب کرنا ہے۔جاہل آدمی پھر متکبر کبھی نیک انجام نہیں پاسکتا۔ایک الہام فرمایا۔چند سال ہوئے کہ مجھے الہام ہوا تھا۔؎ سر انجام جاہل جہنم بود کہ جاہل نکو عاقبت کم بود جماعت کی حفاظت کے بارہ میں ایک مبشر رؤیا اور اس کی تعبیر فرمایا۔اللہ تعالیٰ جب ایک باغ لگاتا ہے اور کوئی اس کو کاٹنا چاہتا ہے تو خدا اس شخص پر کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔مدت کی بات ہے میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ میں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور باغ کی طرف جاتا ہوں اور میں اکیلا ہوں سامنے سے ایک لشکر نکلا جس کا یہ ارادہ ہے کہ ہمارے باغ کو کاٹ دیں۔مجھ پر ان کا کوئی خوف طاری نہیں ہوا۔اور میرے دل میں یہ یقین ہے کہ میں اکیلا ان سب کے واسطے کافی ہوں۔وہ لوگ اندر باغ میں چلے گئے اور ان کے پیچھے میں بھی چلا گیا۔جب میں اندر گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سب کے سب مرے پڑے ہیں اور ان کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہوئے ہیں اور ان کی کھالیں اتری ہوئی ہیں۔تب خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا نظارہ دیکھ کر مجھ پر رقّت طاری ہوئی اور میں رو پڑا کہ کس کا مقدور ہے کہ ایسا کر سکے۔فرمایا۔اس لشکر سے ایسے ہی آدمی مراد ہیں جو جماعت کو مرتد کرنا چاہتے ہیں اور ان کے عقیدوں کو بگاڑنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ہماری جماعت کے باغ کے درختوں کو کاٹ ڈالیں۔خدا تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کے ساتھ ان کو ناکام کرے گا۔اور ان کی تمام کوششوں کو نیست و نابود کر دے گا۔فرمایا۔یہ جو دیکھا گیا ہے کہ اس کا سر کٹا ہوا ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ ان کا تمام گھمنڈ ٹوٹ جائے گا اور ان کے تکبر اور نخوت کو پامال کیا جائے گا۔اور ہاتھ ایک ہتھیار ہوتا ہے جس کے ذریعہ