ملفوظات (جلد 8) — Page 251
ہوگا۔غرض اس قدر اختلاف کے ساتھ تعجب ہے کہ پھر یہ ہمارا مقابلہ کرتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ آنے والا حَکم ہے۔وہ تمام بحثوں کا خاتمہ کرتا ہے اور اختلافی امور کے درمیان میں سے ایک سچی راہ پیش کرتا ہے اور وہی ماننے کے قابل ہے۔۱ ۲۱؍مئی ۱۹۰۶ء میڈیکل اسکول کے خارج شدہ طلباء کو حضرت مسیح موعود ؑکی نصیحت میڈیکل اسکول کے جن طلباء نے اپنے استادوں سے ناراض ہو کر اتفاق کر کے مدرسہ جانا بند کر دیا ہے۔ان میں سے دو طالب علم (عبد الحکیم صاحب اور ایک اور) قادیان میں حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں ۲۱؍مئی کو حاضر ہوئے۔اور اپنا واقعہ گذشتہ اور پرنسپل کا ۳۱؍مئی تک داخل ہو جانے کی اجازت دے دینے کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ آجکل اس قسم کی کارروائیاں گورنمنٹ کے ساتھ بغاوت کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور ان سے بچنا چاہیے۔میرے نزدیک اب اس معاملہ کو ترقی نہیں دینا چاہیے اور پرنسپل صاحب کی اجازت سے فائدہ حاصل کر کے داخل ہوجانا چاہیے۔جن استادوں کے ساتھ تم نے ناراضگی کااظہار کیا ہے ان کو اندر ہی اندر ضرور تنبیہ کی گئی ہوگی اور امید نہیںکہ وہ آئندہ تمہارے ساتھ بُرا سلوک کریں۔گورنمنٹ ایسے لوگوں کو بغیر باز پرس نہیں چھوڑتی گو عام اظہار ایسی بات کا نہ کیا جاوے۔علاوہ اس کے تمہیں چاہیے کہ اگر انہوں نے بد اخلاقی کی ہے تو تم ان سے اخلاق سیکھو اور اگر تمہیں کبھی ایسی افسری کا موقع ملے تو تم اخلاق کا برتاؤ اپنے شاگردوں اور ماتحتوں کے ساتھ کرو۔۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳