ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 250

ہے۔ایسے ہی انبیاء کے سوائے سب لوگوں کو تمام مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔مامور من اللہ کی صحبت سے انسان درست ہوجاتا ہے۔اگر ہر شخص گھر سے ہی ابدال میں سے بن کر آتا تو پھر سلسلہ بیعت کی ضرورت ہی کیا ہوتی؟ سلسلہ میں داخل ہو کر کمزور آدمی رفتہ رفتہ طاقت پکڑتا ہے۔صحابہ کی پہلی حالت پر غور کرو۔جب کافر مومن بن سکتا ہے تو کیا ایک فاجر صالح نہیں بن سکتا؟ انسان پر کئی حالتیں آتی ہیں اور کئی تغیرات واقع ہوتے ہیں۔۱ ۱۰؍مئی ۱۹۰۶ء مباہلہ اعلیٰ درجہ کا ہتھیار ہے احمد مسیح عیسائی کے حضرتؑکو مباہلہ کے واسطے بلانے کا ذکر تھا۔(جس کا جواب منظوری گذشتہ اخبار میں شائع ہو چکا ہے) فرمایا۔مباہلہ ایک آخری فیصلہ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نصاریٰ کو مباہلہ کے واسطے طلب کیا تھا مگر ان میں سے کسی کو جرأت نہ ہوئی۔اب بھی عیسائیوں کے دلوں پر حق کا رعب طاری ہے اور امید نہیں کہ کوئی بشپ مباہلہ کے میدان میں آوے۔لیکن اگر کوئی آئے گا تو ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بڑی کامیابی دے گا۔مباہلہ دشمن پر زد کرنے کا ایک اعلیٰ درجہ کا ہتھیار ہے۔مہدی کے بارہ میں مسلمانوں میں اختلافات فرمایا۔اس زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ بھی بحث مباحثہ فضول ہے کیونکہ جن حدیثوں اور روایتوں اور عقائد کی بناء پر وہ ہم سے مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کے بارے میں خود ان کے اپنے درمیان بڑے بڑے اختلاف موجود ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ مہدی فاطمی ہوگا۔کوئی کہتا ہے کہ عباسی ہوگا۔کوئی کہتا ہے کہ حسینی ہوگا۔کوئی کہتا ہے کہ پیدا ہوگا۔کوئی کہتا ہے کہ غار میں سے نکلے گا۔کوئی کہتا ہے کہ امت میں سے ایک فرد ہوگا۔کوئی کہتا ہے کہ وہی عیسیٰ ہی مہدی ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳