ملفوظات (جلد 8) — Page 249
کا حکم رکھتا ہے اور یہ بات صاف ہے کہ اگر یہ طبقہ لولاک کا نہ ہو تو افلاک کی خلقت عبث و فضول ہے۔افلاک کا بنانا محض اس طبقہ لولاک کی خاطر ہے۔فرمایا۔یہ در اصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھا لیکن ظلی طور پر ہم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔مرقومہ بالا الہام الٰہی یہ میری کتاب۱۔۔۔۔۔۔الـخ کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو احباب ہماری جماعت میں خدمت دین میں سر گرم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو درجہ و عظمت دینا چاہتا ہے۔۲ ۸؍مئی ۱۹۰۸ء (بوقت عصر) پورے جوش سے خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائیں فرمایا۔جب تک کہ انسان بالکل خدا کا نہ ہو جائے وہ کچھ نہ کچھ مسِّ عذاب اس دنیا میں پاتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض افراد دنیوی آرائش اور آرام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اس میں مصروف ہیں۔ان کو چاہیے کہ اپنی عملی حالت کو درست کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف پورے جوش اور طاقت کے ساتھ جھک جاویں۔کمزوروں کے حق میں بُرا نہ بولنے کی تلقین فرمایا۔جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی کمزور ہو تو اس کے حق میں بُرا بولنے میں جلد بازی نہ کرو۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ پہلے ان کی حالت خراب ہوتی ہے پھر یکدفعہ ایک تبدیلی کا وقت ان پر آجاتا ہے جیسا کہ ان کی جسمانی حالت بہت سے مرحلے طے کرتی ہے۔پہلے نطفہ ہوتا ہے پھر خون کا لوتھڑا۔اور ایک ذلیل سی حالت ہوتی ہے۔پھر رفتہ رفتہ ترقی کرتا ۱ ڈائری نویس صاحب نے اس کتاب کا نام نہیں لکھا۔(مرتّب) ۲ بدر جلد ۸ نمبر ۷ ،۸ مورخہ۲۴ و ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۳