ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 247

گے وہ ان کو قبول کرے گا۔باقی جو لوگ اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں اور شقاوت کی راہ سے انکار کرتے ہیں وہ راستباز نہیں ٹھہر سکتے۔دینی عقل تقویٰ سے تیز ہوتی ہے فرمایا۔دینی عقل اور ہے اور دنیوی عقل اور ہے۔جو لوگ دنیوی عقل میں ریاضت کرنے والے ہیں وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان کو ساتھ ہی دینی عقل بھی حاصل ہوگئی ہے بلکہ دینی عقل تقویٰ سے تیز ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠(الواقعۃ:۸۰) جس قدر پاکیزگی بڑھتی ہے اسی قدر معرفت بھی بڑھتی جاتی ہے۔۱ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۶ء (میاں معراج الدین عمر کے قلم سے) جماعت کی ایمانی حالت مضبوط ہوتی جائے گی آج صبح کی گاڑی میں سوار ہو کر میں قریب ایک بجے کے قادیان پہنچا۔تھوڑے عرصہ بعد اذان نماز ہوئی۔وضو کر کے میں چھوٹی مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چھوٹے حجرے میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے پاس حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بیٹھے تھے اور میاں غلام رسول حجام امرتسری کچھ اپنا حال بیان کر رہا تھا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ آپ صبر کریں۔ہماری جماعت کی حالت ابتدائی ہے۔یہ ابھی کچے درخت کی طرح ہیں۔دیکھو! بڑے سے بڑا درخت شیشم یا کوئی اور جب چھوٹا ہوتا ہے تو بہت تھوڑی طاقت سے بلکہ ناخن سے اکھڑ سکتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعت کے بعض لوگ ابھی ایمانی حالت میں ایسے ہی کمزور ہیں۔جیسے درخت بڑا ہو کر ایسا مضبوط ہوتا جاتا ہے کہ اس پر آدمی چڑھتے ہیں تو وہ ٹوٹتا نہیں ایسے ہی ان کی ایمانی حالت رفتہ رفتہ مضبوط ہوجائے گی اور پھر مضبوط درخت کی طرح جاگزین ہوجائے گی۔۲ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۲بدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۳