ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 246

فاتحہ خوانی اور اسقاط عرض کیا گیا کہ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے بعد جو فاتحہ خوانی کا دستور ہے اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے یا نہیں؟ فرمایا۔نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سنت میں۔عرض کیا گیا کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دعائے مغفرت ہی ہے؟ فرمایا۔نہ اسقاط درست نہ اس طریق سے دعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔۱ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۶ء طوری مشاہدات فرمایا۔خدا تعالیٰ اپنے وجود کو آپ دوبارہ ثابت کرنا چاہتا ہے جیسا کہ کوہ طور پر تجلیات الٰہیہ کا نمونہ دکھایا گیا تھا ایسا ہی اب بھی دکھایا جائے گا۔جس طر ح فرعون کے پاس رسول بھیجا گیا تھا وہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے ہیں کہ تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔بجز طُوری مشاہدات کے اب دنیا کے لوگ سیدھے نہیں ہو سکتے۔۲ ۱۷؍اپریل۱۹۰۶ء معجزات کے بارہ میں سنت الٰہی فرمایا۔بعض لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے مانگے ہوئے معجزات ان کو دکھائے جائیں۔یہ درست نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں۔جس حد تک خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تشفی دینے کا ہے اگر اس حد تک تشفی ہو جائے تو پھر مؤاخذہ کے لائق انسان ہوجاتا ہے۔جماعت میں داخل ہونے والوں کی قبولیت فرمایا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوں ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ۲ بدر جلد ۲ نمبر ۱۷مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲