ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 245

۷؍اپریل ۱۹۰۶ء خدا تعالیٰ کی لا انتہا قدرتوں پر ایمان پیدا کرو اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ(الـنّمل:۴۱) کے معنے ایک شخص نے پوچھے تو فرمایا۔ایک پَل میں عرش بلقیس کے آجانے میں استبعاد کیا ہے؟ اصل میں ایسے اعتراض ان لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں اور وہی ایسی باتوں کی تاویل کرنے پر دوڑتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر پورا پورا یقین نہیں آتا۔ہم تو یہی جانتے ہیں اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۱۰۷) ایک واقعہ کا انکار صرف اپنے جیسوں کے ناقص تجربے کی بنا پر نہایت بُری بات ہے۔دیکھو! جب تک تار برقی نہ نکلی تھی اس وقت اگر کوئی بیان کرتا کہ ایک سیکنڈ میں اتنی دور تک خبر پہنچ جاتی ہے تو کون یقین کرتا۔مگر اب جب مشاہدہ میں آگیا تو سب نے مان لیا۔ویسے ہی خدا کی لاانتہا قدرتوں کا احاطہ کون کر سکتا ہے۔جب معمولی باتیں انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتیں تو خدا کے بعض افعال اگر سمجھ میں نہ آئیں تو ان کا انکار نہیں چاہیے بلکہ سچے دل سے ایمان لانا چاہیے کیونکہ جتنا کسی کو خدا پر یقین ہو اتنی ہی وہ اس کی مدد کرتا ہے اور جیسی ایمان کی حالت ہو اتنا ہی اسے اسباب میں ڈالتا ہے۔خود ہم نے خدا کی ایسی قدرتوں کے نمونے دیکھے۔دیکھو! عبد اللہ سنوری والا کُرتا جس پر بغیر کسی ظاہری اسباب کے سرخ نشان پڑ گئے تھے اور ہم نے کشف میں دیکھا کہ دستخط کراتے ہوئے بارگاہِ الٰہی سے وہ چھینٹا پڑا۔ایسا ہی دانت میں سخت درد تھا طبیب نے مشورہ دیا علاجِ دنداں اخراجِ دنداں۔مگر بعد ازاں الہام ہوا وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ تو معاً وہ درد جاتا رہا۔ایسا ہی میں ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا حتی کہ سورہ یٰسین بھی تین دفعہ سنائی گئی۔میرے دل میں ڈالا گیا کہ کچھ تسبیحیں پڑھ کر دریا کی ریت اور پانی بدن پر ملوں۔چنانچہ ایسا کرنے پر وہ بیماری جاتی رہی۔خدا پر کامل ایمان پیدا کرو تاکہ ایسے شبہات سے نجات ہو۔(یہ خلاصہ ہے اس تقریر کا جو حضور علیہ السلام نے فرمائی)